اپوزیشن کے تمام اراکین پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
سٹی42:پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے تمام اراکین نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ استعفے سپیکر پنجاب اسمبلی کے دفتر کو موصول ہو چکے ہیں مگر تاحال کسی بھی رکن کا استعفیٰ منظور نہیں کیا گیا۔
استعفیٰ دینے کے باوجود اکثر اپوزیشن ارکان اب بھی سرکاری گاڑیوں کا استعمال کر رہے ہیں۔صرف دو چیئرمین حافظ فرحت عباس اور اویس عمر ورک نے استعفیٰ کے بعد سرکاری گاڑیاں واپس کی ہیں۔کچھ اراکین کے استعفے بیرون ملک سے واٹس ایپ کے ذریعے بھیجے گئے، جو ضابطے کے لحاظ سے متنازع ہو سکتے ہیں جبکہ چند ارکان نے استعفے سپیکر کو خود جا کر جمع کرائے ہیں، جسے آئینی طور پر درست طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
قتل میں ملوث اشتہاری ملزم سعودی عرب سے گرفتار
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف خبر میں کہا گیا ہے کہ حافظ فرحت عباس اور اویس عمر ورک نے گاڑیاں واپس کیں، اور ساتھ ہی یہ بھی درج ہے کہ انہوں نے گاڑیاں واپس نہیں کیں، جو باہمی تضاد ہے۔ ممکن ہے خبر میں تدوینی غلطی ہو یا حقائق کی تصدیق میں فرق ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔