اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے اثاثو ں کے گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
سٹی 42: اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے برائے مالی سال 25-2024 کے جمع کروانے کی حتمی تاریخ 31 دسمبر 2025 ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت تمام اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے ممبران کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے بشمول شریک حیات و زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے برائے مالی سال 25-2024 مجوزہ فارم-بی کی صورت میں مقررہ تاریخ سے پہلے یا 31 دسمبر 2025 تک الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروا دیں۔
سیکشن 137 اثاثہ جات اور واجبات کے گوشواروں کی فراہمی کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے مطابق ہر ممبر اسمبلی و سینٹ سابقہ 30 جون تک کے اپنے بشمول شریک حیات و زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارےبصورت مجوزہ فارم-بی ہر سال 31 دسمبر سے پہلے یا 31 دسمبر تک الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروائے گا۔ سیکشن 137 کی ذیلی شق [2] کے تحت کمیشن ایک پریس ریلیز کے ذریعے ہر سال یکم جنوری کو مقررہ تاریخ تک مطلوبہ گوشوارے جمع نہ کروانے والوں کے نام شائع کرے گا۔ جنوری کو ایک حکم کے تحت کمیشن 15 جنوری تک مذکورہ گوشوارے جمع نہ کروانے والے اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی رکنیت معطل کر دے گا اور مذکورہ گوشوارے جمع نہ کروانے تک وہ پارلیمنٹ واسمبلی کی کسی بھی کاروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اگر کوئی ممبر اپنے پیش کردہ گوشواروں میں کسی قسم کی غلط معلومات فراہم کرنے کا مرتکب پایا گیا تو کمیشن سیکشن 137 کے تحت گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ سے 120 دن کے اندر اس بد عنوانی کے جرم کے ارتکاب کی پاداش میں کارروائی کرے گا۔
الیکشن کمیشن نے کہا اس حوالے سے تیار کردہ ہدایات / راہنمائی کے ساتھ مقررہ فارم-بی الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد ، متعلقہ صوبائی الیکشن کمشنر کے دفاتر ، سینٹ سیکرٹریٹ ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے سیکرٹریٹ سے مفت حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مزیدبرآں ، فارم-بی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹwww.
جعلی ملازمتوں کی پیشکش، ایف آئی اے نے بیرون ملک جانے والوں کو خبردار کردیا
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اراکین پارلیمنٹ الیکشن کمیشن کے صوبائی اسمبلی اور واجبات کے گوشوارے جمع کے گوشوارے فارم بی کے تحت
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔