اسلام آباد(طارق سمیر) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 کی کثرت رائے سے منظوری دے دیایکٹ کے تحت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کمیشن کے پاس کوڈ آف سول پروسیجر 1908 کے تحت سول عدالت کے اختیارات ہوں گے۔ بلکمیشن کے پاس اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی معاملے کی تحقیقات کا اختیار ہو گا۔ بلعوامی عہدے پر فائز شخصیت کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر کمیشن ایکشن لینے کا مجاز ہو گا۔ بلتحقیقات مکمل ہونے پر متعلقہ حکومت ایک ماہ کی مدت میں کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کی پابند ہو گی۔ بلکمیشن اپنی رپورٹ اور حکومت کی عملدرآمد رپورٹ اپنی ویب سائٹ پر جاری کرنے کا پابند ہو گا۔ بلکمیشن شکایات درج کرانے والے شہری کی شناخت چھپانے کے لئے احکامات جاری کرنے کا مجاز ہو گا۔ بلوفاقی اور صوبائی حکومتیں اقلیتوں سے متعلق کسی بھی عوامی نوعیت کے مسلئے پر کمیشن سے رائے حاصل کر سکیں گی۔ بلوفاقی حکومت متاثرہ اقلیتی شہریوں کی مالی مدد کے لئے کمیشن کو فنڈز جاری کرنے کی پابند ہو گی۔ بلکمیشن اقلیتوں سے متعلق موجودہ تمام قوانین، قواعد، رولز اور ریگولیشنز کا جائزہ لے گا۔ بلکمیشن اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ترویج کے لئے قومی ایکشن پلان تیار کرے گا۔ بلکمیشن اقلیتوں سے متعلق شکایات کی وصولی اور جائزے کے لیے ایک ڈیٹا بیس کا قیام عمل میں لائے گی۔ بلکمیشن پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمتوں میں اقلیتی کوٹے پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کا مجاز ہو گا۔ بلمشترکہ اجلاس میں جمیعت علمائے اسلام ف کی ترمیم کے ذریعے کمیشن سے ازخود نوٹس لینے کا اختیار واپس لے لیا گیاکمیشن اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے قیدی کے ساتھ ملاقات کے لئے جیل کا دورہ کرنے کا مجاز ہو گا۔ بلکمیشن سوشل میڈیا سے اقلیتوں سے متعلق نفرت انگیز مواد ہٹانے کے لئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرنے کا مجاز ہو گا۔ بلاقلیتوں کے حقوق کے برخلاف وقوع پذیر ہونے والے کسی بھی واقعے کی تحقیقات کا اختیار کمیشن کے پاس ہو گا۔ بلکمیشن کے ارکان کی کل تعدادگیارہ ہو گی، چئیرمین کی مدت چار سالہ ہو گی، بلچئیرمین کی تعیناتی کے لیے چار رکنی پارلیمانی کمیٹی عمل میں لائی جائے گی، دو اراکین سینیٹ جبکہ دو قومی اسمبلی سے شامل ہوں گے۔ بل

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اقلیتوں کے حقوق کے اقلیتوں سے متعلق کا مجاز ہو گا کمیشن کے کرنے کا کے لئے

پڑھیں:

گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق

سکردو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیح ہے اور انہیں ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی اور بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔

(جاری ہے)

جی بی ای-8 سکردو-2 میں انتخابی مہم کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار حاجی اکبر تابان کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر عوام کی محرومیاں ختم کرے گی اور گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے پارلیمنٹ میں مؤثر آواز اٹھائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور خطے میں بجلی کے نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاکستان کے قیام کا جو مقصد تھا، اسے پورا کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل، خدمت اور عوامی ترقی کی سیاست ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی