Jasarat News:
2026-07-24@13:08:48 GMT

والدین اور استاد

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سیدنا محمد مصطفی احمد مجتبیٰؐ کی ذاتِ گرامی کے ایسے ایسے پہلو ہیں کہ جن کو پڑھ کر دنیا دنگ رہ جاتی ہے، اہل مغرب تو نبی پاکؐ کے زندگی گزارنے کے ہر پہلو پر ریسرچ کر کر کے تھک گئے ہیں ہمیشہ ان کو ایک نیا سائنسی مگر مثبت پہلو نظر آتا ہے جس سے وہ لوگ انگشت بداں ہیں کہ یہ کون سی شخصیت تھی جن کے ایسے حیران کن پہلو ہیں ان کی ذات کے کہ جن جن پہلوئوں پر بھی کڑی سے کڑی نظر ڈالیں تو پرفیکشن کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا چاہے ان کی ذاتی زندگی ہو، انداز سیاست ہو، جنگی حکمت عملی ہو، رہن سہن، کھانا پینا ہو، معاشرتی پہلو ہوں ماشاء اللہ وہ ہر جگہ سب سے بلند اور پرفیکٹ ہیں۔ اسی لیے تو کائنات کی سب سے سچی کتاب قرآن پاک میں اللہ پاک نے فرمایا ہے لَقَد کَانَ لَْم فِی رَسْولِ اللّٰہِ اْسوَۃٌ حَسَنَۃ (سورۃ الاحزاب، آیت 21)

تو آئیے چلتے ہیں، میرے ماں باپ ان پر قربان ان کی زندگی کے دلچسپ اور انوکھے پہلو پر۔ ’’دنیا میں دو ایسی عظیم اور بلند مرتبہ ہستیاں ہیں جن کے احسانات کا حق کوئی انسان تمام عمر بھی ادا نہیں کر سکتا: والدین، جن کی شفقت سایہ رحمت ہے، اور استاد، جن کی رہنمائی انسان کی زندگی کو روشن راہوں کی طرف لے جاتی ہے‘‘۔ اور اب جو میں نایاب الفاظ کہنے جا رہا ہوں جو خالصتاً میرے تخلیق شدہ ہیں وہ آپ نے اب تک نہ کسی کتاب میں پڑھے ہوں گے اور نہ ہی کسی ذی روح سے سنے ہوں گے کیونکر کہ: اللہ جل جلالہ کو مکہ کے یتیم بچے اور رہتی دنیا تک سب سے زیادہ عاجزی کے پیکر، جن کے لیے حضرت حق نے کہا کہ اے محبوب اگر تمہیں اس دنیا میں پیدا نہ کرتا تو میں اس کائنات کو کبھی نہ بناتا، تو وہ الفاظ جو اللہ پاک نے میرے دل میں ڈالے وہ یہ ہیں کہ: ’’اللہ پاک نے یہ دونوں رشتے اپنے پیارے نبیؐ کو نہیں دیے، آپ دونوں سے مبرا تھے آپ کہیں گے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے تو وہ ایسے کہ رحمت اللعالمین کے والد محترم کا انتقال تو آپؐ کی اس دنیا میں آمد سے قبل ہوگیا تھا اور جہاں تک بات ہے بی بی آمنہ والدہ ماجدہ کی تو آپ کی عمر 6 سال بعض کتب میں 9 سال آئی ہے تو اس وقت آپ تو صغیر سنی کی عمر میں تھے، یعنی کہ آپ ابھی کم سن ہی تھے کہ آپ کی والدہ محترمہ اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئی تھی، تو آپ پر نہ والد کی ذمے داری تھی کہ آپ کی پیدائش سے قبل ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا اور نہ والدہ کی ذمے داری تھی بلکہ اس عمر میں تو آپؐ خود والدہ کی ذمے داری یا زیر نگرانی تھے، یعنی آپ غیر مکلف تھے۔

تو جو الفاظ اسلامی کتب میں آتے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی انسان ماں باپ کا حق ادا نہیں کرسکتا تو ’’یہ عبارت نبی اکرمؐ کی ذاتِ اقدس پر صادق نہیں آتی، کیونکہ آپؐ کے والدین کا انتقال آپؐ کے اوائل ِ طفولیت ہی میں ہو گیا تھا‘‘۔

یعنی کہ ربّ ذوالجلال کو یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ کل کلاں کو کفار آقائے دو جہاں کو یہ طعنہ دیں کہ آپ کے دین میں تو اتنا مقام ہے والدین کا تو اس طرح تو آپ بھی اپنے والدین کا حق ادا نہیں کرسکے، تو یہ جملے سننا بھی اللہ نے اپنے محبوب کے لیے پسند نہیں فرمائے اور وہ یہ نوبت ہی نہیں لائے۔

اب آتے ہیں دوسری ہستی یعنی استاد پر۔ آپ اس کائنات کی کوئی سی بھی کتاب اٹھالیں، چاہے وہ احادیث کی ہو، تفسیر ہو، فقہ کی ہو، کسی بھی مسلک کی ہو یا کسی بھی مذہب کی، چاہے وہ عیسائیت ہو، یہودیت ہو، ہندو مت ہو، یہ آپ کو کہیں لکھا ہوا نہیں ملے گا کہ مسلمانوں کے آخری نبیؐ نے کسی اسکول، مدرسہ، کالج، یونیورسٹی، دارالعلوم سے تعلیم حاصل کی ہو اور فلاں فلاں حضرات ان کے استاد رہے۔ یہ آپ کو دنیا کی کسی بھی کتاب میں نہیں ملے گا آپ کتنی بھی ریسرچ کریں لیکن آپ ناکام ونامراد ہی لوٹیں گے۔

یہاں تک کہ احادیث کتب میں آیا ہے کہ جب اللہ پاک نے آپ پر پہلی وحی نازل فرمائی تھی تو جب جبرائیل امین نے پہلی دفعہ اقرا کہا یعنی پڑھ تو آپؐ خاموش رہے، پھر دوسری مرتبہ اقرا کہا آپؐ خاموش رہے اور جب تیسری مرتبہ اقرا باسم ربک الذی خلق، تو پھر آپؐ نے پڑھا، تو اس پر محدثین کرام اور فقہاء کرام اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ پہلی مرتبہ اقرا پڑھ لیتے تو جبریل امین تھوڑے بہت استاذ کے ذمرے میں آسکتے تھے لیکن آپ نے پہلی دفعہ اور دوسری مرتبہ بھی نہیں پڑھا اور جب تیسری مرتبہ پڑھ اپنے ربّ خالق کے نام سے تو نبی پاکؐ نے پڑھا، تو اس حکمت سے آپ کا کوئی استاذ اس کائنات میں نہیں ہے۔ سوائے اللہ سبحانہ کی ذات کے۔ یعنی کہ: ربّ ذوالجلال کو یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ کل کو کفار یہ آقائے دو جہاں کو طعنہ دیں کہ آپ کے دین میں تو استاد کا اتنا مقام ہے تو اس طرح تو آپ بھی اپنے استاد کرام کا حق ادا نہیں کرسکے، تو یہ جملے سننا بھی اللہ نے اپنے محبوب کے لیے پسند نہیں فرمائے۔ واہ قربان جائیں ان کے قدموں کی خاک پر، جہاں جہاں ان کے قدم مبارک پڑے تھے۔

امیر محمد خان کلوڑ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اللہ پاک نے ادا نہیں کر ہیں کہ کی ذات

پڑھیں:

پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثناءاللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے۔ اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے عناصر کو اخلاقیات، دیانت داری اور شفافیت پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ ہوش کے ناخن لیں اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بے بنیاد بیانات دینے سے گریز کریں کیونکہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہر الزام اور ہر بیان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ کے خلاف زہر اگلنے والوں کو پہلے شریف خاندان کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بیرون ملک جائیدادوں اور دیگر معاملات کا جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی رہنما اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بے بنیاد کہانیاں گھڑ رہے ہیں، جبکہ ان کی سیاست ہمیشہ سہاروں، ڈیلز اور مفاہمت پر قائم رہی ہے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے وسائل پر نظر رکھنے والے سیاسی عناصر پہلے اپنے طرزِ سیاست کا جائزہ لیں، جس جماعت کی بنیاد، ان کے بقول، جمہوری اقدار کی مخالفت پر استوار رہی ہو، وہ پیپلز پارٹی کو عوامی مینڈیٹ اور سیاسی شعور کا درس نہ دے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ عوام اب سیاسی نعروں اور الزامات کی سیاست سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافے کے بعد اس نوعیت کی سیاست مزید کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • زندگی کا مقصد
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل