Jasarat News:
2025-11-29@01:26:45 GMT

والدین اور استاد

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سیدنا محمد مصطفی احمد مجتبیٰؐ کی ذاتِ گرامی کے ایسے ایسے پہلو ہیں کہ جن کو پڑھ کر دنیا دنگ رہ جاتی ہے، اہل مغرب تو نبی پاکؐ کے زندگی گزارنے کے ہر پہلو پر ریسرچ کر کر کے تھک گئے ہیں ہمیشہ ان کو ایک نیا سائنسی مگر مثبت پہلو نظر آتا ہے جس سے وہ لوگ انگشت بداں ہیں کہ یہ کون سی شخصیت تھی جن کے ایسے حیران کن پہلو ہیں ان کی ذات کے کہ جن جن پہلوئوں پر بھی کڑی سے کڑی نظر ڈالیں تو پرفیکشن کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا چاہے ان کی ذاتی زندگی ہو، انداز سیاست ہو، جنگی حکمت عملی ہو، رہن سہن، کھانا پینا ہو، معاشرتی پہلو ہوں ماشاء اللہ وہ ہر جگہ سب سے بلند اور پرفیکٹ ہیں۔ اسی لیے تو کائنات کی سب سے سچی کتاب قرآن پاک میں اللہ پاک نے فرمایا ہے لَقَد کَانَ لَْم فِی رَسْولِ اللّٰہِ اْسوَۃٌ حَسَنَۃ (سورۃ الاحزاب، آیت 21)

تو آئیے چلتے ہیں، میرے ماں باپ ان پر قربان ان کی زندگی کے دلچسپ اور انوکھے پہلو پر۔ ’’دنیا میں دو ایسی عظیم اور بلند مرتبہ ہستیاں ہیں جن کے احسانات کا حق کوئی انسان تمام عمر بھی ادا نہیں کر سکتا: والدین، جن کی شفقت سایہ رحمت ہے، اور استاد، جن کی رہنمائی انسان کی زندگی کو روشن راہوں کی طرف لے جاتی ہے‘‘۔ اور اب جو میں نایاب الفاظ کہنے جا رہا ہوں جو خالصتاً میرے تخلیق شدہ ہیں وہ آپ نے اب تک نہ کسی کتاب میں پڑھے ہوں گے اور نہ ہی کسی ذی روح سے سنے ہوں گے کیونکر کہ: اللہ جل جلالہ کو مکہ کے یتیم بچے اور رہتی دنیا تک سب سے زیادہ عاجزی کے پیکر، جن کے لیے حضرت حق نے کہا کہ اے محبوب اگر تمہیں اس دنیا میں پیدا نہ کرتا تو میں اس کائنات کو کبھی نہ بناتا، تو وہ الفاظ جو اللہ پاک نے میرے دل میں ڈالے وہ یہ ہیں کہ: ’’اللہ پاک نے یہ دونوں رشتے اپنے پیارے نبیؐ کو نہیں دیے، آپ دونوں سے مبرا تھے آپ کہیں گے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے تو وہ ایسے کہ رحمت اللعالمین کے والد محترم کا انتقال تو آپؐ کی اس دنیا میں آمد سے قبل ہوگیا تھا اور جہاں تک بات ہے بی بی آمنہ والدہ ماجدہ کی تو آپ کی عمر 6 سال بعض کتب میں 9 سال آئی ہے تو اس وقت آپ تو صغیر سنی کی عمر میں تھے، یعنی کہ آپ ابھی کم سن ہی تھے کہ آپ کی والدہ محترمہ اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئی تھی، تو آپ پر نہ والد کی ذمے داری تھی کہ آپ کی پیدائش سے قبل ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا اور نہ والدہ کی ذمے داری تھی بلکہ اس عمر میں تو آپؐ خود والدہ کی ذمے داری یا زیر نگرانی تھے، یعنی آپ غیر مکلف تھے۔

تو جو الفاظ اسلامی کتب میں آتے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی انسان ماں باپ کا حق ادا نہیں کرسکتا تو ’’یہ عبارت نبی اکرمؐ کی ذاتِ اقدس پر صادق نہیں آتی، کیونکہ آپؐ کے والدین کا انتقال آپؐ کے اوائل ِ طفولیت ہی میں ہو گیا تھا‘‘۔

یعنی کہ ربّ ذوالجلال کو یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ کل کلاں کو کفار آقائے دو جہاں کو یہ طعنہ دیں کہ آپ کے دین میں تو اتنا مقام ہے والدین کا تو اس طرح تو آپ بھی اپنے والدین کا حق ادا نہیں کرسکے، تو یہ جملے سننا بھی اللہ نے اپنے محبوب کے لیے پسند نہیں فرمائے اور وہ یہ نوبت ہی نہیں لائے۔

اب آتے ہیں دوسری ہستی یعنی استاد پر۔ آپ اس کائنات کی کوئی سی بھی کتاب اٹھالیں، چاہے وہ احادیث کی ہو، تفسیر ہو، فقہ کی ہو، کسی بھی مسلک کی ہو یا کسی بھی مذہب کی، چاہے وہ عیسائیت ہو، یہودیت ہو، ہندو مت ہو، یہ آپ کو کہیں لکھا ہوا نہیں ملے گا کہ مسلمانوں کے آخری نبیؐ نے کسی اسکول، مدرسہ، کالج، یونیورسٹی، دارالعلوم سے تعلیم حاصل کی ہو اور فلاں فلاں حضرات ان کے استاد رہے۔ یہ آپ کو دنیا کی کسی بھی کتاب میں نہیں ملے گا آپ کتنی بھی ریسرچ کریں لیکن آپ ناکام ونامراد ہی لوٹیں گے۔

یہاں تک کہ احادیث کتب میں آیا ہے کہ جب اللہ پاک نے آپ پر پہلی وحی نازل فرمائی تھی تو جب جبرائیل امین نے پہلی دفعہ اقرا کہا یعنی پڑھ تو آپؐ خاموش رہے، پھر دوسری مرتبہ اقرا کہا آپؐ خاموش رہے اور جب تیسری مرتبہ اقرا باسم ربک الذی خلق، تو پھر آپؐ نے پڑھا، تو اس پر محدثین کرام اور فقہاء کرام اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ پہلی مرتبہ اقرا پڑھ لیتے تو جبریل امین تھوڑے بہت استاذ کے ذمرے میں آسکتے تھے لیکن آپ نے پہلی دفعہ اور دوسری مرتبہ بھی نہیں پڑھا اور جب تیسری مرتبہ پڑھ اپنے ربّ خالق کے نام سے تو نبی پاکؐ نے پڑھا، تو اس حکمت سے آپ کا کوئی استاذ اس کائنات میں نہیں ہے۔ سوائے اللہ سبحانہ کی ذات کے۔ یعنی کہ: ربّ ذوالجلال کو یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ کل کو کفار یہ آقائے دو جہاں کو طعنہ دیں کہ آپ کے دین میں تو استاد کا اتنا مقام ہے تو اس طرح تو آپ بھی اپنے استاد کرام کا حق ادا نہیں کرسکے، تو یہ جملے سننا بھی اللہ نے اپنے محبوب کے لیے پسند نہیں فرمائے۔ واہ قربان جائیں ان کے قدموں کی خاک پر، جہاں جہاں ان کے قدم مبارک پڑے تھے۔

امیر محمد خان کلوڑ سیف اللہ.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اللہ پاک نے ادا نہیں کر ہیں کہ کی ذات

پڑھیں:

دعا: سنتِ انبیا علیہم السلام

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دعا انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہی تھی کہ سیدنا عمرؓ کی تقدیر بدل گئی اور اسلام کے صفحۂ اول میں داخل ہوگئے۔ ”اے اللہ عمرَین (عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام) میں سے کسے ایک ذریعے سے اسلام کو تقویت عطا کر“۔ بدر کے سنگلاخ میدان میں آپؐ کی دعا نے جبرئیلِ امین کو لا کھڑا کیا اور شیطان کو شکست کھانی پڑی۔ اُحد میں فتح کے بعد فاتحِ لشکر کو مدینہ منورہ کے دروازے پر دستک دینے کی ہمت نہ ہوئی۔ حالانکہ ظاہری اعتبار سے اب کوئی رکاوٹ نہ تھی اور کوئی رکاوٹ تھی تو وہ نالۂ نیم شب کی اثر انگیزی تھی کہ وہ بدقسمت لشکر مدینہ کے بجائے مکہ روانہ کردیا گیا۔ جنگِ خندق میں دعاؤں نے افواج عرب کو ہواؤں اور ان دیکھے لشکروں کے ذریعے پسپا کردیا۔ جنگ یرموک میں بھی وہی ہواؤں کا ریلا مدد کو موجود تھا۔ اسی طرح قادسیہ کے مقام پر آپؐ کے صحابہٴ کرامؓ کی پشت پر ایرانیوں کے خلاف وہ تیز وتند ہواؤں کا لشکر موجود تھا۔
یقیناً دعا مومن کا ہتھیار ہے، ربِ کریم کے نادیدہ خزانوں کی چابی ہے، دعا مومن کا بہت اہم خزانہ ہے، دعا عبادت کا مغز ہے (الدعاء مخ العبادہ) لیکن اس کی حقیقت عقلیت پسندوں کی سمجھ میں نہیں آتی، جبکہ یہ تو جبلِ ہمالیہ سے کہیں بڑھ کر ٹھوس اور باوزن ہے اور بدیہی اعتبار سے ثابت بھی ہے۔ اللہ تعالی کے نادیدہ خزانوں کا عظیم وعمیق ربط دعا سے ہے۔ جس کی قبولیت کے مختلف انداز ہیں، کبھی بعینہ وہی مل جائے، یا اس کا بدل۔۔۔ بلکہ نعم البدل مل جائے، جو ں کاتوں قبول نہ ہو بلکہ اللہ تعالی حکیم ہے اور اس کا کوئی عمل حکمت سے خالی نہیں اور وہ انسان کے انجام سے بخوبی واقف ہے۔ اس کے ذریعے سے کوئی مصیبت دور کردے، یا یہ کہ اسے مومن کے لیے بطور توشۂ آخرت محفوظ کردیا جائے، لیکن دعا کی قبولیت کے ان گونا گوں انداز کو عقلیت پسند ذہن تمسخر کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے۔ لیکن انھیں یہ پتا ہونا چاہیے کہ پُرخلوص کوشش اور دعا سے وہ نتائج نکلتے ہیں جن کی عقلی لحاظ سے بالکل امید نہیں ہوتی۔

دعا کی قبولیت کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ انسان اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کرے خوب خوب بندگی کرے، تقوی اور پرہیزگاری کی راہ اور روش اپنائے یقیناً دعا میں تقوی کَالْمِلْحِ فِی الطَّعَامِ کا درجہ رکھتا ہے، جس کے بارے میں کسی نے لکھا ہے کہ:
یہ مخصوص اوقات میں محدود مقامات پر ایک خاص قسم کی پر تکلف کیفیت پیدا کرنے کا نام نہیں ہے؛ بلکہ یہ خشیتِ الٰہی سے عبارت ہے اگر تقوی اور پرہیزگاری کی روح نہ رہے تو انسان کی زندگی میں امن وسکون عنقا ہو جاتا ہے اور پھر یہ صراطِ مستقیم سے منحرف ہوکر اپنی ناکامی اور نامرادی کا نوشتۂ تقدیر خود اپنے ہاتھوں تیار کرلیتا ہے، تقویٰ تو یہ ہے کہ کبر ونخوت اور غرور وسرکشی سے عاری اور تواضع وانکساری کے جذبات سے سرشار ہو، جس کے لیے خدا کی عطا کردہ نوازش کا احساس اور خالقِ دوجہاں کے منبعِ علم ہونے کا ایمان مہمیز کرتا ہے۔
اسی طرح جو بھی صلاحیت، لیاقت اور توانائیاں ہوں وہ راہِ خدا میں کھپادے، پھر اللہ تعالی سے نصرت واعانت اور سرخروئی وفتح وکامرانی کی دعا کرے، اللہ تعالیٰ کو تو پرخلوص جدوجہد اور صرف اسی پر توکل کرنا اور اسی سے مانگنا محبوب ہے، اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کو فاتح اور غالب کرنے وعدہ کیا ہے خواہ تعداد میں تھوڑے ہوں اور وسائل کی قلت ہو بقول علامہ اقبال
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کردے

مولانا محمد ابرار کلیم گلزار

متعلقہ مضامین

  • پہلی مرتبہ معافی ہے دوسری بار ڈبل ای چالان ہوگا
  • دنیا کی ہر معلومات رکھنے والا چیٹ جی پی ٹی ایک چھٹی سی بات نہیں بتاسکتا
  • نظامِ عالم اور عدل و انصاف
  • دعا: سنتِ انبیا علیہم السلام
  • چھینک اور جماہی کے آداب
  • طالبان خطے اور دنیا کیلئے مسئلہ بن رہے ہیں
  • 8ویں مرتبہ آیا ہوں، بانی پی ٹی آئی سے کیوں نہیں ملنے دیا جارہا، سہیل آفریدی
  • دنیا میں عزت بڑھنے کے باوجود سرمایہ کاری نہیں آرہی: مفتاح اسماعیل
  • جنوبی افریقا سے عبرتناک شکست، بھارت رینکنگ میں پاکستان سے پیچھے چلا گیا