خیبر پی کے حکومت کا بلٹ پروف گاڑیاں واپس کرنے کا فیصلہ احمقانہ: طلال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ خیبر پی کے حکومت کی جانب سے بلٹ پروف گاڑیاں واپس کرنے کا فیصلہ بچگانہ ہے۔ نابالغ سوچ نے پولیس افسروں، جوانوں کیلئے خطرات بڑھا دیئے۔ ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ خیبر پی کے حکومت کو تمام وسائل فراہم کرنا چاہتی ہے تاکہ دہشتگردی کا جلد خاتمہ ہو سکے۔ ہم یہ ارادہ نہیں کر رہے بلکہ عملی طور پر کر رہے ہیں اور کرتے رہے ہیں۔ ہم اگر ایسی سوچ رکھنے والے وزیراعلیٰ سے نہ صرف افسر اور جوان تو سوال پوچھیں گے لیکن عوام بھی سوال پوچھے کہ دہشتگرد تو جدید ہتھیاروں سے لیس ہوکر آئیں ایسے میں اپنے افسروں کیلئے بلٹ پروف گاڑیاں نہ لینا نالائقی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ انتہائی بچگانہ کے علاوہ بیوقوفانہ ہے جس پر افسوس ہے۔ بہرحال دہشتگردی سے لڑنا اور دہشتگردوں کو جلد ختم کرنا ہے۔ خیبر پی کے پولیس ہو یا کوئی ادارہ وفاق انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی اور دہشتگردوں کا ہر صورت خاتمہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت 600 ارب روپے سے زیادہ خیبر پی کے حکومت کو دے چکی ہے لیکن صوبائی حکومت 600 ارب روپے کا آج تک حساب نہیں دے سکی۔ خیبر پی کے پولیس کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کیلئے عالمی معیار کی بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئیں۔ بلٹ پروف گاڑیاں دہشتگردی کیخلاف آپریشنز میں استعمال کی جاتی ہیں۔ خیبر پی کے کی پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بلٹ پروف گاڑیاں پولیس جوانوں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے دی گئی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خیبر پی کے حکومت بلٹ پروف گاڑیاں
پڑھیں:
کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
فائل فوٹوکراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔