کے پی حکومت کو دی بلٹ پروف گاڑیاں عالمی معیار کی ہیں جنہیں ناقص کہا جارہا ہے، وزیر مملکت داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ کے پی حکومت کو دی گئی بلٹ پروف گاڑیاں عالمی معیار کی ہیں جنہیں ناقص کہہ کر واپس کیا جارہا ہے، کے پی حکومت کو دہشت گردی کیخلاف ملے 600 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ آج تک جواب نہیں ملا۔
وزیراعلیٰ کے پی کے بیان پر ردعمل میں انہوں ںے کہا کہ وفاقی حکومت اب تک خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 600 ارب روپے فراہم کر چکی ہے، یہ رقم سول آرمڈ فورسز، سی ٹی ڈی اور فارنزک لیب کو مضبوط بنانے کے لیے دی گئی تھی، چھ سو ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ آج تک کوئی واضح جواب نہیں ملا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ وفاق نے سیکیورٹی کے لیے گاڑیاں فراہم کیں مگر معیار کا بہانہ بنا کر واپس کر دی گئیں، یہ بلٹ پروف گاڑیاں عالمی معیار کے مطابق ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں، اسی نوعیت کی گاڑیاں وفاقی وزراء اور اعلیٰ افسران دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں استعمال کر رہے ہیں۔
وزیرِ مملکت نے کہا کہ جہاں یہ گاڑیاں استعمال ہوئیں وہاں جانی نقصان نہ ہونے کے برابر رہا، خیبر پختونخوا پولیس کو نہ ان 600 ارب سے کچھ ملا اور جو کچھ وفاق سے مل رہا ہے وہ بھی چھینا جارہاہے، خیبر پختونخوا کے بہادر پولیس افسران اور جوانوں کو نہتے دہشت گردوں کے آگے پھینکا جا رہا ہے، وفاقی وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیوں کے اعتراف میں یہ گاڑیاں فراہم کیں جو کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول میں کھڑے ہیں، یہ گاڑیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جوانوں کو محفوظ کرنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ تیز کرنے کے لیے دی گئی ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ یہ بلٹ پروف گاڑیاں نہ صرف عالمی معیار کے مطابق ہیں بلکہ محفوظ اور جدید بھی ہیں، یہ مؤقف نابالغ اور ناپختہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، ایسے افراد کا وزیراعلیٰ بننا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، یہ نابالغ اور ناپختہ سوچ آج پولیس کے جوانوں کیلئے خطرات بڑھا رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کے مکمل صفایا میں دلچسپی نہیں رکھتی، ان گاڑیوں کے ساتھ ساتھ بلٹ پروف جیکٹس، دوربین اور ہتھیار خریدا گیا تھا تاکہ دہشت گردی کا جلد از جلد قلعہ قمع کیا جائے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی حکومت پوری نیت کے ساتھ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون فراہم کررہی ہے مگر صوبائی حکومت کی بچگانہ سوچ اور سیاسی ضد وفاق کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے، وفاقی حکومت آگے بھی خیبرپختونخوا پولیس کو تعاون فراہم کرے گی تاکہ دہشت گردوں کا جلد سے جلد صفایا ہو۔
واضح رہے کہ آج وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق سے ملی بلٹ پروف گاڑیاں ناقص اور پرانی ہیں جنہیں واپس کیا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلٹ پروف گاڑیاں عالمی معیار نے کہا کہ حکومت کو کے لیے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔