خیبر:پاک افغان طور خم گزر گاہ تجارت کیلیے کھولنے کی تیار یاں ،عملہ طلب
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
طورخم (مانیٹرنگ ڈیسک )پاک افغان طورخم تجارتی گزرگاہ تجارت کے لیے کھولنے کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔کسٹمز حکام نے عملے کو فوری طور پر طورخم ٹرمینل پر حاضر ہونے کا حکم دے دیا۔کسٹمز ذرائع نے کہا کہ کارگو گاڑیوں کی کلیئرنس کے لئے اسکینر طورخم ٹرمینل پہنچا دیا گیا، سرحد پر کشیدگی کے باعث اسکینر کو 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب ٹرمینل سے ہٹایا گیا تھا۔کسٹمز ذرائع کے مطابق طورخم سرحدی گزرگاہ 8 روز قبل پاک افغان کشیدگی کے باعث بند کر دی گئی تھی۔افغان سیکورٹی ذرائع نے کہا کہ افغانستان کی طرف بھی سیکڑوں کی تعداد میں مسافر طورخم سرحد پر پہنچ گئے ہیں، انہیں بھی اطلاع ملی ہے کہ بارڈر کھولا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تناوکے باعث طورخم تجارتی گزرگاہ ہرقسم کی آمدورفت کے لیے بند کردی گئی تھی افغانستان جانے
والے پھل، سبزی اور دیگراشیا سے بھری درجنوں گاڑیاں پاکستانی حدود میں موجود تھیں جبکہ شمالی وزیرستان سے غلام خان اور جنوبی وزیرستان سے انگور اڈہ سرحد کو بھی بند کردیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
اسلام آباد+پشاور (اپنے سٹاف رپورٹر سے+بیورو رپورٹ) نیب نے کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے۔ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پی کے شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔ پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے۔ حوالے کیے گئے اثاثوں میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں۔ نیب کے مطابق اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی، کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا، انہوں نے ڈی جی نیب خیبر پی کے فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ چیئرمین نیب نے کہا کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبرپی کے حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔