چینی شہریوں کی ہلاکت کے بعد تاجکستان کا افغانستان کے ساتھ سرحد کی نگرانی کیلئے روسی فوج تعینات کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تاجکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد پر مشترکہ گشت کے لیے روسی فوج کی تعیناتی سے متعلق بات چیت شروع کر دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تاجکستان روس اور روس کی سربراہی میں قائم علاقائی سکیورٹی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ افغانستان کی غیر مستحکم سرحد پر مشترکہ گشت کے لیے روسی دستوں کو تعینات کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک ہفتے کے دوران افغانستان کی جانب سے کیے گئے حملوں میں تاجکستان کی سرحد کے قریب چین کے پانچ شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہو چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق تاجک صدر امام علی رحمان نے پیر کے روز سکیورٹی اداروں کے سربراہان کے ساتھ ہنگامی اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لیا۔
تاجک سکیورٹی کونسل کے ذرائع نے بتایا کہ حکام روس کے ساتھ اس امکان پر گفتگو کر رہے ہیں کہ تاجکستان میں قائم روسی فوجی اڈے سے دستے تعینات کرکے تاجکستان اور افغانستان کی سرحد کی مشترکہ نگرانی کی جائے۔
یہ فوجی اڈہ تاجکستان میں روس کی سب سے بڑی بیرونِ ملک عسکری تنصیب ہے جو دارالحکومت دوشنبے کے قریب واقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔