افغانستان میں حکومت تبدیلی کی کوششوں کا الزام بے بنیاد ہے: وزیر دفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس الزام کو یکسر مسترد کردیا ہے کہ پاکستان امریکا کی ایما پر کابل میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے ان الزامات کو ’بے بنیاد اور سراسر لغو‘ قرار دیا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ہفتے سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا، جو 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد اب تک کی سب سے خطرناک جھڑپیں تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: دوحہ میں نتیجہ خیز مذاکرات کے بعد پاکستان و افغانستان فوری جنگ بندی پر متفق
بعد ازاں دونوں فریقین نے دوحہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا، جبکہ آئندہ مذاکرات 25 اکتوبر کو استنبول میں ہوں گے۔
خواجہ آصف نے غیرملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہاکہ میں سخت الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا، لیکن یہ سراسر لغو ہے۔ ہمیں افغانستان کے معاملات میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔ گزشتہ چار پانچ دہائیوں میں ہم بہت کچھ بھگت چکے ہیں، اب ہم صرف ایک مہذب پڑوسی کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔
وزیر دفاع نے یہ خیال بھی رد کر دیا کہ امریکا طالبان حکومت کے خلاف کسی قسم کی سازش کررہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ امریکا وہاں حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے تو میری رائے میں طالبان کا واشنگٹن سے پہلے ہی خوشگوار تعلق موجود ہے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ افغانستان کو بھارت یا کسی بھی دوسرے ملک سے تعلقات قائم کرنے کا حق ہے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، جب تک ان تعلقات سے ہماری سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہاکہ وہ بھارت کے ساتھ اتحاد کریں، معاہدہ کریں یا تجارت، یہ ان کا حق ہے۔ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، جب تک اس کے اثرات ہماری سرزمین پر نہ آئیں۔
ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے بتایا کہ حالیہ دوحہ مذاکرات میں ایک نیا اتفاق رائے طے پایا ہے، جس کے تحت ترکیہ اور قطر بطور ضامن کردار ادا کریں گے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اب افغان سرزمین سے کارروائیاں نہ کرے۔
انہوں نے انکشاف کیاکہ کابل حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ ٹی ٹی پی ان کی سرزمین سے کام کر رہی ہے، اور غیر رسمی طور پر وہ اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ ماضی میں وہ ان جنگجوؤں کو سرحد سے دور منتقل کرنے کی بات بھی کر چکے ہیں۔
خواجہ آصف کے مطابق دوحہ معاہدے کی سب سے اہم شق یہی ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ استنبول میں ہونے والی آئندہ ملاقات میں اس سمجھوتے پر عملدرآمد کے لیے مانیٹرنگ میکنزم کو حتمی شکل دی جائے گی۔
افغان پناہ گزینوں کی باعزت واپسی کا مطالبہ
انہوں نے بتایا کہ طالبان وفد کی واحد درخواست یہ تھی کہ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا عمل عزت و وقار کے ساتھ مکمل کیا جائے۔
’انہوں نے صرف اتنا کہاکہ وطن واپسی باعزت طریقے سے ہو، یہ نہیں کہاکہ پناہ گزین واپس نہ جائیں، یہ معاہدے کا حصہ ہے اور ہم اسے باوقار انداز میں مکمل کریں گے۔‘
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ایما پر افغان طالبان کی کارروائیوں سے پورا خطہ کس طرح متاثر ہو رہا ہے؟
وزیر دفاع نے کہاکہ افغان مہاجرین کئی برسوں تک ہمارے مہمان رہے۔ اب اگر وہ اپنے وطن واپس جا رہے ہیں تو ہم ان کے لیے نیک تمناؤں کے ساتھ دعا گو ہیں کہ انہیں اپنے ملک میں امن، استحکام اور خوشحالی نصیب ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews الزام مسترد پاک افغان جنگ پاکستان افغانستان تعلقات حکومت تبدیلی خواجہ آصف وزیر دفاع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الزام مسترد پاک افغان جنگ پاکستان افغانستان تعلقات حکومت تبدیلی خواجہ ا صف وزیر دفاع وی نیوز خواجہ آصف وزیر دفاع انہوں نے کہ افغان کے لیے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ