پاکستان اور افغانستان میں جنگ بندی خوش آئند، طالبان حکومت انڈیا کی ہمدرد نہ بنے
حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگانا چاہتی ہے،طلباء سے خطاب

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ 12 سال سے خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی حکومت ہے لیکن یہاں کوئی تبدیلی نہیں آئی، تبدیلی سرکار صرف تباہی لیکر آئی۔لوئر دیر میں بنو قابل پروگرام میں حصہ لینے والے طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں جنگ بندی خوش آئند ہے، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال گھمبیر ہے، یہاں کوئی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں، افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرے، طالبان حکومت انڈیا کی ہمدرد نہ بنے کیونکہ انڈیا کبھی بھی افغانستان کا ساتھ نہیں دے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگانا چاہتی ہے جو درست نہیں، حکومت کہتی ہے کہ ہمارے خلاف بات نہ کرو، جلوس نہ نکالو جلسے نہ کرو، ان اقدامات کی وجہ سے عوام اور ریاست میں دوریاں بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 37 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، بنو قابل پروگرام کے تحت 20 لاکھ نوجوانوں کو مفت آئی ٹی کورسز پڑھا رہے ہیں، ان نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرینگے تاکہ یہ نوجوان اپنے والدین کا سہارا بنیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اپنے شہریوں کو مفت تعلیم دے، ملک میں 3 کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں، پنجاب میں 1 کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے، حکومت نے اگر نوجوانوں کو روزگارنہ دیا اور جدید تعلیم نہ دی تووہ وقت دور نہیں کہ نوجوان حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن نوجوانوں کی تعلیم اور روزگار پر کام کر سکتی ہیں تو حکومت کیوں نہیں، بنو قابل پروگرام میں ٹاپ کرنے والے طلباء و طالبات کو روزگار کیلئے بیرون ممالک بھجوایا جائے گا، ان کی ڈگری کی تکمیل میں مالی مدد بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن نااہل حکمران اس طرف توجہ نہیں دیتے اور آپس کی لڑائیوں سے فرصت نہیں، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مینار پاکستان پر جماعت اسلامی کے زیر اہتمام اجتماع عام میں شرکت کریں اور نظام بدلنے میں ہمارا ساتھ دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا میں انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم

پڑھیں:

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں  کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے  مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن