ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی آزاد کشمیر میں موجود ہیں، پنجاب حکومت کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
رپورٹ کے مطابق ایک سینئر اہلکار نے بتایا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ معلومات آزاد جموں و کشمیر کی انتظامیہ کے ساتھ شیئر کر دی ہیں اور ان سے ٹی ایل پی رہنماؤں کی گرفتاری میں تعاون مانگا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی آزاد کشمیر فرار ہو گئے ہیں۔ پنجاب کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کا سراغ لگا لیا ہے، حکام کے مطابق دونوں مفرور رہنما مریدکے میں ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) فرار ہو گئے۔ قومی انگریزی روزنامے ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر اہلکار نے بتایا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ معلومات آزاد جموں و کشمیر کی انتظامیہ کے ساتھ شیئر کر دی ہیں اور ان سے ٹی ایل پی رہنماؤں کی گرفتاری میں تعاون مانگا گیا ہے، یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹی ایل پی کے حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ ان کے سربراہ پہلے ہی حراست میں ہیں۔
اہلکار کے مطابق کریک ڈاؤن کے بعد پنجاب پولیس اور دیگر اداروں کے سینئر افسران پر مشتمل کئی ٹیمیں سعد رضوی اور ان کے بھائی کا سراغ لگانے کے لیے تعینات کی گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کو پہلی بار مریدکے میں احتجاجی کیمپ سے پیدل جاتے اور پھر موٹر سائیکل پر فرار ہوتے دیکھا گیا، اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ایک ہنگامی پیغام جاری کیا گیا کہ ایک موٹر سائیکل سوار کے ساتھ ٹی ایل پی کے سربراہ اور ان کا بھائی قریبی گلیوں کی طرف جا رہے ہیں۔ تاہم تینوں مشتبہ افراد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو چکمہ دینے میں کامیاب ہو گئے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے زخمی ہونے سے متعلق طرح طرح کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔ افسر نے بتایا کہ خصوصی ٹیموں نے بالآخر ٹی ایل پی رہنماؤں کی آخری لوکیشن آزاد جموں و کشمیر میں ٹریس کی، جس کے بعد ان کی گرفتاری کے لیے علاقائی حکومت سے مدد طلب کی گئی۔
یہ بھی یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے باضابطہ طور پر تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کر دی ہے اور اس سلسلے میں سمری وفاقی حکومت کو بھجوائی گئی ہے۔ دوسری جانب، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے بھی سعد رضوی کے نام پر چلنے والے تقریباً 95 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے، اہلکار کے مطابق ان میں سے 15 اکاؤنٹس سود پر مبنی تھے، اور ایف آئی اے ان بینکوں سے مزید تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ان اکاؤنٹس کے لین دین کا جائزہ لیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق انتہا پسند تنظیم کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کے ایک حصے کے طور پر پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ٹی ایل پی کے زیر انتظام 61 مدارس کی نشاندہی بھی کرلی ہے، ان مدارس کے مستقبل سے متعلق معاملہ اہلِ سنت علما اور صوبائی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی زیر بحث آیا، جہاں اس بارے میں تجاویز پیش کی گئیں۔
ملاقات میں دو تجاویز پر غور ہوا، پہلی تجویز یہ تھی کہ ان مدارس کو محکمہ اوقاف کے انتظامی کنٹرول میں دے دیا جائے، تاہم زیادہ تر شرکا نے اس تجویز کی مخالفت کی کیونکہ ان کے مطابق اس اقدام سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور مستقبل میں خصوصاً مالی اخراجات کے بڑے حجم کے باعث تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں، دوسری تجویز یہ تھی کہ ان مدارس کو معتدل اہل سنت علماء کے حوالے کر دیا جائے، جسے قابلِ عمل قرار دیا گیا، حکام کے مطابق اس صورت میں علماء ان مدارس کو عسکریت پسندی کے عنصر کے بغیر چلائیں گے، تاہم مدارس کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ دریں اثنا، ملتان کی ضلعی انتظامیہ نے پنجاب حکومت کے احکامات کے مطابق ٹی ایل پی کے 10 مدارس سیل کر دیے اور متعدد کو محکمہ اوقاف کے حوالے کر دیا، یہ مدارس ملتان، شجاع آباد اور بستی ملوک میں واقع تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سعد رضوی اور ان کے بھائی قانون نافذ کرنے والے ٹی ایل پی کے پنجاب حکومت کے سربراہ نے بتایا کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.