آج ہماری یونیورسٹیوں کالجوں میں پڑھنے والوں کو قرآن و حدیث کا نہیں پتا ،مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
سٹی 42: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو نسل کشی مرتکب قرار دیا ۔عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے
جے یو آئی کے بھکر میں جلسے سے مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔مسلمانوں میں فتنے پیدا کئے جارہے ہیں ۔فتنوں کا خاتمہ امت کی ذمہ داری ہے
بہت سے شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے ،ہمارے معاشرے میں امت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی،اسرائیل نے ہزاروں بے گناہ لوگوں کو بربریت کا نشانہ بنایا
عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو نسل کشی مرتکب قرار دیا ۔عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے ۔صدام حسین پر مقدمہ چل سکتا ہے تو نیتن یاہو پر کیوں نہیں ۔
اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا اعلان فلسطین کو ختم کرنے کا اعلان ہے،۔جب تک فلسطین نہیں قبول کرتا کوئی بھی فیصلہ کرنا ناممکن ہے۔حکمرانوں کو کہہ دیا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچنا بھی نہیں ورنہ ہمارے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
نیتن یاہو کو یو این بھی بلایا جاتا ہے تو ٹرمپ اس کی پہلو میں بیٹھتے ہیں ۔اتنے بڑے جرائم کے بعد آپ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے ۔ہم فلسطین کا یک طرفہ فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں ۔علما اور مدارس کے خلاف پروپیگینڈا کیا جارہا ہے
قانون بن چکا ہے تو پھر مدارس کے اکاونٹ بن جانے چاہیے۔وزارت تعلیم کے تحت مدارس کی رجسٹریشن کیوں کروائی جارہی ہے۔دینی مدارس ہر تحریک کا مرکز ہیں مگر ریاست مدارس کے بارے میں گمراہ کیا جارہا ہے ۔علم کو جدید اور عصری علوم میں تقسیم کرنا انگریز کا کام ہے ،مسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں قرآن اور حدیث کی تعلیم ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا آج ہماری یونیورسٹیوں کالجوں میں پڑھنے والوں کو قرآن و حدیث کا نہیں پتا ،دینی مدارس کے طلبہ دنیاوی تعلیم کا امتحان بھی دے رہے ہیں اور بورڈ ٹاپ کرتے
مدارس کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے مدارس کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ پہلے پانچ وفاق المدارس پر اعتراض تھا اب درجن بھر کا اضافہ کردیا گیا ہے ۔
خلاء میں بھیجا جانے والا سیٹلائیٹ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے تحقیق میں مدگار ثابت ہوگا؛ وزیراعظم
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان مدارس کے کرنے کا
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔