سٹی 42: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو نسل کشی مرتکب قرار دیا ۔عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو گرفتار  کرنے کا حکم دیا ہے

جے یو آئی  کے  بھکر میں جلسے سے مولانا فضل الرحمان نے  خطاب  کرتے ہوئے کہا ۔مسلمانوں میں فتنے پیدا کئے جارہے ہیں ۔فتنوں کا خاتمہ امت کی ذمہ داری ہے 
بہت سے شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے ،ہمارے معاشرے میں امت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی،اسرائیل نے ہزاروں بے گناہ لوگوں کو بربریت کا نشانہ بنایا 
عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو نسل کشی مرتکب قرار دیا ۔عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو گرفتار  کرنے کا حکم دیا ہے ۔صدام حسین پر مقدمہ چل سکتا ہے تو نیتن یاہو پر کیوں نہیں ۔
 اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا اعلان فلسطین کو ختم کرنے کا اعلان ہے،۔جب تک فلسطین نہیں قبول کرتا کوئی بھی فیصلہ کرنا ناممکن ہے۔حکمرانوں کو کہہ دیا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچنا بھی نہیں ورنہ  ہمارے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
نیتن یاہو کو یو این بھی بلایا جاتا ہے تو ٹرمپ اس کی پہلو میں بیٹھتے ہیں ۔اتنے بڑے جرائم کے بعد آپ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے ۔ہم فلسطین کا یک طرفہ فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں ۔علما اور مدارس کے خلاف پروپیگینڈا کیا جارہا ہے 
قانون بن چکا ہے تو پھر مدارس کے اکاونٹ بن جانے چاہیے۔وزارت تعلیم کے تحت مدارس کی رجسٹریشن کیوں کروائی جارہی ہے۔دینی مدارس ہر تحریک کا مرکز ہیں مگر ریاست مدارس کے بارے میں گمراہ کیا جارہا ہے ۔علم کو جدید اور عصری علوم میں تقسیم کرنا انگریز کا کام ہے ،مسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں قرآن اور حدیث کی تعلیم ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان  نے کہا آج ہماری یونیورسٹیوں کالجوں میں پڑھنے والوں کو قرآن و حدیث کا نہیں پتا ،دینی مدارس کے طلبہ دنیاوی تعلیم کا امتحان بھی دے رہے ہیں اور بورڈ ٹاپ کرتے 
 مدارس کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے مدارس کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ پہلے پانچ وفاق المدارس پر اعتراض تھا اب درجن بھر کا اضافہ کردیا گیا ہے ۔

خلاء میں بھیجا جانے والا سیٹلائیٹ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے تحقیق میں مدگار ثابت ہوگا؛ وزیراعظم

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان مدارس کے کرنے کا

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان