ایران کاپاکستان کو بلینک چیک دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:ایران کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری اور سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں اسلام آباد کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ تہران کا دیا ہوابلینک چیک جب چاہے، جیسے چاہے استعمال کرے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور پاکستان سے اس کے اسٹریٹیجک تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں، قطر پر اسرائیلی حملہ ایک کھلی جارحیت تھی جو تہران کے علم میں پہلے ہی آ چکی تھی جبکہ پاکستان بھی خطے میں بگڑتی صورتحال سے مکمل طور پر باخبر تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا ہمیشہ پسِ پردہ اسرائیل کو سہارا دیتا ہے اور تل ابیب کا اصل ہدف خطے کی مزاحمتی قوتوں کو جھکانا ہے، قطر پر حملے کے بعد خطے کے متعدد اہم ممالک، خصوصاً سعودی عرب نے بھی زمینی حقائق کو نئے زاویے سے دیکھنا شروع کیا ہے،ہم سب مسلمان ہیں، ہمارا قبلہ ایک ہے، کتاب ایک ہے اور پیغمبر ایک۔ دشمن کی جارحیت مسلمانوں کو مزید متحد کرتی ہے۔”
انہوں نے پاکستانی قیادت کی کھل کر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف، صدر اور وزیراعظم نے اسرائیلی حملوں کے دوران ایران کو بہترین سیاسی و دفاعی مشورے فراہم کیے۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستانی پارلیمنٹ اور عوام کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے ایران کے حق میں قرارداد منظور کی۔
فلسطین کے مستقبل سے متعلق سوال پر علی لاریجانی نے دوٹوک موقف اختیار کیا کہ ایران کا نظریہ اصولی اور عوامی امنگوں کے مطابق ہے، سپریم لیڈر نے برسوں پہلے واضح کر دیا تھا کہ فلسطین کی تقدیر کا فیصلہ صرف فلسطینی عوام کے ووٹ سے ہونا چاہیے۔
انہوں نے غزہ امن منصوبے کے چند نکات خصوصاً قیدیوں کے تبادلے کو قابلِ عمل قرار دیا مگر یہ بھی کہا کہ غزہ کی انتظامیہ صرف غزہ کے عوام کے پاس ہونی چاہیے۔ اگر سرحدی سیکیورٹی کے لیے کوئی فورس بنے تو ایک الگ بات ہے، لیکن غزہ کو غیرمسلح کرنے کی کوئی بھی کوشش مسائل بڑھا دے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس غزہ اور فلسطین کا حصہ ہے، اور کسی بیرونی تجویز کے تحت اسے نکالنے کی بات حقیقت سے دور اور غیرعملی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
ارجنٹائن کے فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کے بارے میں ایک حیران کن پیشگوئی ہوئی ہے کہ وہ آئندہ پانچ برس کے اندر ارجنٹائن کے صدر بن سکتے ہیں۔
چینی ماہر تعلیم اور تجزیہ کار جیانگ شوئیکن نے یہ دعویٰ متنازع آن لائن کانٹنٹ کریئٹر سنیکو کے کِک پلیٹ فارم پر ایک گفتگو کے دوران کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ لیونل میسی ارجنٹائن کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے اور آسانی سے کامیاب ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فٹبالر 20 برس تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں کیونکہ لوگ انہیں پسند کریں گے اور غلط فیصلے کرنے پر بھی معاف کر دیں گے۔
یہ پیشگوئی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میسی نے 39 برس کی عمر میں ارجنٹائن کو مسلسل دوسری بار فیفا ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچایا۔ اگرچہ فائنل میں اسپین کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم شائقین کے نزدیک ان کی حیثیت بدستور ناقابلِ تردید ہے۔
واضح رہے کہ لیونل میسی کی جانب سے سیاست میں آنے یا صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا، اور یہ دعویٰ محض ایک تجزیہ کار کی ذاتی پیشگوئی ہے، جس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔