مختلف میڈیارپورٹس کے مطابق ایس ایس پی اسلام آبادسید علی ناصر رضوی نے اسلام آباد کے مضافاتی علاقہ بھارہ کہو میں واقع پولیس اسٹیشن کی دستیابی، انتظامی کارکردگی اور جرائم کنٹرول کی صورتِ حال پر معائنہ کیا۔ اس موقع پر (انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد) نے اسٹیشن کا دورہ کیا اور وہاں موجود ریکارڈز، روزنامچہ (روزانہ ڈائری)، فرنٹ ڈیسک، ریکارڈ روم، وار ہاؤس، قیدخانہ، تفتیشی اہلکاروں کے کمرے اور رہائشی کیمپوز کا جائزہ لیا۔پولیس کے مطابق بھارہ کہو میں جرائم کنٹرول، رات کے وقت چیک پوسٹ قائم کرنے، ڈولفن اسکواڈ کی کارکردگی اور شہریوں کو بروقت خدمات مہیا کرنے کے معاملات میں مستقل ناقص کارکردگی سامنے آئی۔ نتیجتاً، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (SHO) کو معطل کیا گیا ہے۔
ان حکمات کے تحت پولیس حکام نے شہریوں سے شفاف اور بروقت رابطے، بایومیٹرک حاضری،’’ٹریول آئی‘‘ سافٹ ویئر کے نفاذ اور مصالحتی کمیٹی کی فعالیت بڑھانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
اہم نکات:
انتظامی نگرانی میں اضافہ: اعلیٰ پولیس قیادت نے اسٹیشن کی صورتحال کا براہِ راست جائزہ لیا۔
کارکردگی میں کمی کے باعث ایک اعلیٰ اہلکار کی معطلی: یہ قدم پولیس افسران کے لیے’’پابندی اور جوابدہی‘‘ کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
شہری خدمات، مصالحتی کمیٹی کی فعال شمولیت اور عوامی رابطے پر زور دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا