مریم نواز نے خاتون کو ہراساں کرنے والے پولیس اہلکار کی گرفتاری کے بعد کی تصویر شیئر کردی
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خاتون کو ہراساں کرنے والے پیٹرولنگ پولیس اہلکار کی گرفتاری کے بعد کی تصویر شیئر کردی۔
بس میں خاتون کو چھیڑنے والے پیٹرولنگ پولیس کے اہلکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی تھی۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اب اس اہلکار کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق سرگودھا میں نارووال چوک مریدکے پر ہائی وے پیٹرولنگ کے اہلکار نے بس میں خاتون کو ہراساں کیا تھا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گرفتاری کے بعد اہلکار کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہراساں کرنے کے واقعات کے لیے زیرو ٹالرینس۔
علاوہ ازیں مریم نواز نے گرفتار اہلکار کی دیگر تفصیلات بھی شیئر کی ہیں۔
واضح رہے کہ اس پورے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی اور شہریوں نے پولیس اہلکار کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مریم نواز نے اہلکار کی خاتون کو کے بعد
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔