خیبر پختونخوا کے 6 اضلاع میں 12 خالی بلدیاتی نشستوں پر پولنگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے 6 اضلاع میں 12 خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ جاری ہے۔
خواتین، مزدور، کسان اور نوجوانوں کی خالی نشستوں پر پولنگ شام 4 بجے تک جاری رہے گی۔
ڈیرہ اسماعیل خان کی 3 ولیج کونسلوں میں جنرل، یوتھ اور خواتین کی نشستوں پر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ضلع بھر میں ووٹرز کی تعداد 25 ہزار ہے جن میں خواتین ووٹرز ساڑھے 11 ہزار ہیں۔
ملاکنڈ میں ولیج کونسل سخاکوٹ کی ایک جنرل نشست پر پولنگ جاری ہے۔ ایبٹ آباد، مانسہرہ اور اپر دیر میں بھی پولنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 66 پولنگ اسٹیشن اور 201 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 23 پولنگ اسٹیشن حساس اور 5 پولنگ اسٹیشن حساس ترین قرار دیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نشستوں پر
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔