اسلام آباد ہائیکورٹ کا آئندہ ہفتے کا روسٹر جاری؛ چیف جسٹس سمیت 9 ججز سماعت کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
ہائی کورٹ کا آئندہ ہفتے کیسز کی سماعت کے لیے ججز کا نیا ڈیوٹی روسٹر جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق 20 تا 24 اکتوبر 9 ججز سنگل بینچز میں مختلف نوعیت کے مقدمات کی سماعت کریں گے۔
روسٹر کے مطابق آئندہ ہفتے 3 ڈویژن بینچ اور ایک اسپیشل ڈویژن بینچ کیسز کی سماعت کے لیے دستیاب ہوں گے۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس طارق محمود جہانگیری سنگل بینچز میں سماعت کریں گے۔
سنگل بینچز میں شامل دیگر ججز میں جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس ثمن رفعت، جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس شامل ہیں۔
پہلا ڈویژن بینچ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل ہوگا جب کہ دوسرا اسپیشل ڈویژن بینچ جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل ہوگا جو ٹیکس کیسز کی سماعت کرے گا۔
تیسرا ڈویژن بینچ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس پر جب کہ چوتھا ڈویژن بینچ جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ہوگا۔
ذرائع کے مطابق سینئر پیونی جج جسٹس محسن اختر کیانی آئندہ ہفتے بھی کسی ڈویژن بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان آئندہ ہفتے ڈویژن بینچ کی سماعت اور جسٹس
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔
وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔
مزید :