جج میڈیا پر بات نہیں کر سکیں گے، سپریم جوڈیشل کونسل نے ترمیم شدہ ضابطہ اخلاق جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کوڈ آف کنڈکٹ یا ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کرتے ہوئے ججز کو پابند بنایا ہے کہ وہ اب میڈیا پر بات نہیں کر سکیں گے۔ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیٰسی دور میں ترمیم سے ججز کو الزامات کا جواب دینے کی اجازت دی گئی تھی۔
رول نمبر 5 میں دوبارہ ترمیم سے ججز کو پابند کردیا گیا، اب ججز الزامات کا جواب تحریری طور پر ادارہ جاتی رد عمل کے لیے قائم کمیٹی کو بھیجیں گے اور میڈیا پرایسے سوال کا جواب نہیں دیں گے جس سے تنازع کھڑا ہو بے شک سوال میں کوئی قانونی نکتہ شامل ہو لیکن جج جواب نہیں دے گا۔ کوئی جج اپنے عدالتی اور انتظامی معاملات پر پبلک میں بات نہیں کرےگا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف دائر 70 شکایات مسترد کر دیں
’ججز ہم آہنگی پیدا کریں‘
ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ ایک جج اپنے عدالتی کام اور دوسرے جج صاحبان کے ساتھ اپنے تعلق کے سلسلے میں نہ صرف اپنی عدالت بلکہ اپنے ساتھی ججز اور دوسری عدالتوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرے گا۔ اپنے برابر یا اپنے سے جونیئر جج کے ساتھ بھی اختلاف رائے ضابطہ اخلاق کے دائرے اور تحمل کے ساتھ کیا جائےگا۔
ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ جج کو ہر معاملے میں مکمل غیر جانبداری اختیار کرنی چاہیے، جج کسی ایسے مقدمے کی سماعت نہ کرے جس میں ذاتی مفاد یا تعلق ہو اور جج کسی قسم کے کاروباری یا مالی تعلقات سے اجتناب کرے۔
اگر کسی جج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جائے تو کیا کرے؟
ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی جج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جائے اور اس کے پاس قانونی تدارک کا کوئی راستہ میّسر نہ ہو تو قانونی حدود میں رہتے ہوئے وہ فوری طور پر ادارہ جاتی ردعمل کے لیے متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے 4 سینیئر ترین جج صاحبان کو تحریری طور آگاہ کرے گا۔
تحریری درخواست موصول ہونے کے 2 دن کے اندر ہائیکورٹ کا چیف جسٹس درخواست کو تین رکنی ججز کمیٹی کے سامنے رکھے گا جبکہ کمیٹی 15 دن میں درخواست کا فیصلہ کرےگی۔
اگر ہائیکورٹ کا چیف جسٹس اور 3 رُکنی ججز کمیٹی مقررہ وقت کے اندر فیصلہ نہ کر پائے تو چیف جسٹس سپریم کورٹ کے 4 سینیئر جج صاحبان کے ساتھ درخواست کا فیصلہ کرے گا۔
اگر معاملہ کسی قانونی حل کا متقاضی ہو تو کم سے کم وقت میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ایک جج سے یہ اُمید کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی اثر کے سامنے نہ صرف کھڑا ہو سکے بلکہ اپنے قانونی اختیارات سے کماحقہ آگاہ ہو۔
’کھانے کی دعوت قبول نہ کرے‘
ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ اعلی عدلیہ کا کوئی جج کسی بار ممبر کی جانب سے انفرادی حیثیت میں دی گئی کھانے کی دعوت قبول نہیں کرے گا۔
تحفہ سوائے رشتے داروں کے قبول نہ کرے
کوئی بھی جج سوائے رشتے داروں اور قریبی دوستوں کے کسی سے بھی تحفہ قبول نہیں کرےگا اور تحفہ بھی ایسا جو رسمی طور پر دیا جاتا ہے۔
’کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ چیف جسٹس کے ذریعے‘
ملکی اور بین الاقوامی کانفرسوں میں شرکت کے لیے دعوت ناموں کے لیے کی گئی خط و کتابت ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی متصور ہو گی۔ کسی جج کو اگر ایسا کوئی دعوت نامہ انفرادی حیثیت میں موصول ہو تو وہ دعوت دینے والے کو آگاہ کرے گا کہ اسے یہ دعوت نامہ چیف جسٹس کے ذریعے سے بھیجا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا جسٹس طارق محمود جہانگیری سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے بچ پائیں گے؟
اعلیٰ عدلیہ کے ججز کسی سماجی، ثقافتی، سیاسی یا سفارتی تقریب میں شرکت یا صدارت سے گریز کریں گے، عدالتی کام کے علاوہ جج کوئی اور مصروفیت جیسا کہ کسی تنظیم کے عہدیدار نہیں بن سکیں گے۔
ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی جج کم سے کم مقررہ وقت میں مقدمات کا فیصلہ نہیں کرتا تو وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری کے ساتھ ادا نہیں کررہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews الزامات کا جواب تحفے تحائف ججز جسٹس فائز عیسیٰ ضابطہ اخلاق وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الزامات کا جواب تحفے تحائف جسٹس فائز عیسی ضابطہ اخلاق وی نیوز سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس قبول نہ کے ساتھ نہیں کر کا جواب کرے گا ججز کو کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔