Jasarat News:
2026-06-03@02:26:41 GMT

واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین کی نجکاری کے خلاف ریلی

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مفاد عامہ کے محکموں کی نجکاری اور اداروں کی ٹھیکیداری نظام کے حوالے کرنے کے خلاف ہمارا آج کا یہ ملک گیر عظیم الشان احتجاج اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ محکمہ بجلی اور اسکی تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کسی طور بھی ان مفادعامہ کے اداروں کا آئی ایم ایف کے دبائو پر ہر گز ہرگز سودا نہیں ہونے دیں گے اور پھر بھی ہماری حکومت اس بات پر بضد رہی تو لامحالہ ہم بجلی کی روانی کو بند کرنے پر مجبور ہوں گے اور کسی بھی قیمت پر ان اداروں کا سودا نہیں کرنے دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان واپڈا ہائیڈو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے آئیسکو، فیسکو ، گیپکو کی نجکاری اور حیسکو ، سیپکو کو ٹھیکیداری نظام کے حوالے کرنے کے خلاف لیبر ہال حیدرآباد سے نکالی گئی ہزاروں واپڈا ملازمین کی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریلی لیبر ہال سے اپنے مقررہ راستوں سے گزرتی ہوئی پریس کلب پہنچی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں جھنڈے ، بینر اور کتبے اٹھائے ہوئے تھے جن پر مطالبات درج تھے۔ ریلی کے دیگر قائدین میں یونین کے صوبائی سیکرٹری سندھ اقبال احمد خان ، اعظم خان، محمد حنیف خان، الادین قائمخانی ، نور احمد نظامانی، گل محمد نظامانی، عابد شاہ اور شعبہ خواتین کی چیئرمین ثروت جہاں شامل تھیں۔ ریلی میں حیسکو، این جی سی پی، واٹر ونگز کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کرکے ریلی کو کامیاب بنایا۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر یونین نے مزید کہا کہ اگر ہمارے بار بار احتجاج کے باوجود بھی حکومت نے ہم سے رابطہ نہیں کیا اور ہمارے جائز مطالبات کو منظور نہیں کیا تو ہم مجبوراً تالا بندی اور کام چھوڑ ہڑتال پر مجبور ہوں گے، لہٰذا قومی اداروں اور بالخصوص محکمہ بجلی کی منافع بخش تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ٹھیکیداری نظام کا فی الفور خاتمہ کرکے ادارے میں 8 سالوں سے بند بھرتیوں کو کھولا جائے۔ یونین مسلسل احتجاج کرتی چلی آرہی ہے ہماری یہی کوشش رہی ہے کہ پر امن احتجاج کے ذریعے ادارے اور ملازمین کے مسائل حل کیے جائیں مگر حکومت اور وفاقی محکمہ انرجی ہماری آواز کی سنوائی نہیں کررہا ہے جس کے باعث ملازمین میں سخت اضطراب پایا جارہا ہے اور ہم پر دبائو ہے کہ نجکاری ، ٹھیکیداری کے خلاف احتجاج کے دائرے کو بڑھاتے ہوئے تالا بندی اور کام چھوڑ ہڑتال کی کال دی جائے لیکن یونین عوام اور صارفین کی پریشانی کو مدِ نظررکھتے ہوئے اس اقدام سے گریزاں ہے لیکن ہمارے ان جائز مطالبات اور مسائل کو حل نہیں کیا گیا تو یونین تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق نہ صرف پہلے مرحلے میں تالا بندی اور کام چھوڑ ہڑتال بلکہ انتہائی اقدام کے طور پر بجلی بند کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس سارے عمل کی ذمہ دار صرف اور صرف حکومت اور انتظامیہ ہوگی، انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف حکومت کو فنڈز دے کر قومی اداروں کی نجکاری پر زور دیتی ہے حکومت چونکہ ڈالر پکڑ چکی ہوئی ہے تو وہ آئی ایم ایف کی ہدایت پر قومی اداروں کی بندر بانٹ کرنے پر مجبور اور بضد ہوجاتی ہے، نجکاری کمیشن بورڈ نے جہاں بھرتیوں پر پابندی عائد کرادی ہے بلکہ انہوں نے ہمارے ملازمین کی ترقیاں، اپ گریڈیشن اور ٹائم اسکیل اور مراعات کو بھی کمیشن کی منظوری سے مشروط کراکر ہمارے راستے میں مزید رکاوٹ ڈال دی ہے جو ہمارے بنیادی آئینی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے لہٰذا ہمیں بھرپور طاقت اور اپنے اتحاد کے ذریعے حکومتی اور آئی ایم ایف کے گٹھ جوڑ کے خلاف مزاحمت کرنی ہوگی ورنہ حکومت ہر روز ہمارے خلاف ایک نیا قدم آگے بڑھاتے ہوئے قومی اداروں کا سودا کرنے جارہی ہے۔ محکمے میں گزشتہ 8 سالوں سے بھرتیاں بند ہیں اور اب حکومت نے ایک قدم آگے آکر شہید کوٹے پر بھی پابندی عائد کردی ہے جس کے باعث دن بدن ادارے میں ملازمین کی شدید کمی واقع ہوچکی ہے اور اس کی کمی کے باعث ملازمین پر کام کا شدید دبائو اور نئی نئی لائنوں اور گرڈ اسٹیشن کی آمد کے باعث کام مزید بڑھ چکا ہے جس کی وجہ سے ادارے میں حادثات کی شرح کم ہونے کے بجائے اس میں شب و روز اضافہ ہورہا ہے جو ہمارے اور ملازمین کے لیے انتہائی تکلیف اور افسوس کا باعث بن رہا ہے۔انہوں نے جلسے میں بتایا کہ تین بجلی کمپنیوں آئیسکو، فیسکو، گیپکو کی نجکاری جنوری میں کی جارہی ہے جبکہ میپکو، لیسکو اور حیسکو ، سیپکو کو اگلے مرحلے میں رکھا گیا ہے اس وقت ادارے میں 50 فیصد جگہیں خالی ہیں۔ ترقیاں نہیں ہورہیں، حادثات دن بدن بڑھ رہے ہیں، جینکوز کو ختم کردیا گیا ہے ان کے ملازمین کو سرپلس کرکے DISCOs میں ایڈجسٹ کردیا گیا ہے جس میں فیز II,III کے ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ تاحال باقی ہے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری اقبال احمد خان نے کہا کہ جب جب ہماری مرکزی قیادت نے ہمیں احتجاج کی کال دی تو سندھ نے ہمیشہ کی طرح ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے سندھ بھرمیں بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس موقع پر ریلی سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف ملازمین کی کرتے ہوئے کی نجکاری ریلی سے کے باعث کے خلاف

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی