ناقص بلٹ بروف گاڑیاں وفاق کو واپس الیکشن میں دبائو لینے دالوں کیخلاف کارروائی : سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
پشاور (بیورو رپورٹ+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپی کے محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبے میں ایک دفعہ پھر دہشت گردی آئی ہے۔ وفاقی حکومت ہمیں وار آن ٹیرر کے فنڈز سمیت دیگر آئینی حقوق نہیں دے رہی۔ ہمیں ہمارے فنڈز ملیں گے تو ہم پولیس کو مضبوط کر سکیں گے اور دہشت گردی کا مقابلہ کر سکیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے پولیس کیلئے جو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کیں وہ ناقص اور پرانی ہیں۔ یہ خیبرپی کے پولیس کی تضحیک ہے، اس لیے ان گاڑیوں کو واپس کیا جائے گا۔ نئے وزیراعلیٰ خیبرپی کے سہیل آفریدی کی زیرِصدارت پہلا باضابطہ اجلاس ہوا جس میں صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ پر پیشرفت اور امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انسداد بدعنوانی سے متعلق معاملات پر بھی غوروخوض ہوا۔ چیف سیکرٹری، آئی جی پی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، انتظامی سیکرٹریز اور پولیس کے دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ امن و امان ہماری حکومت کی پہلی ترجیح ہے اس پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پولیس کو فنڈز کی کمی کا سامنا نہیں ہوگا، تمام درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں گے۔ پولیس کو جدید آلات اور اسلحے سے لیس کیا جائے گا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ 8 فروری 2024 کو ہمارے صوبے میں بھی عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ میں یہاں کی بیوروکریسی اور پولیس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے پریشر کے باوجود صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کا تحفظ کیا۔ الیکشن پر پریشر لینے والے افسروں کیخلاف کارروائی ہو گی۔ اب بھی پولیس کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنائے گی، کسی بھی طالب علم پر ایف آئی آر درج نہ کی جائے، پولیس کے خلاف عوامی شکایات بھی نہیں آنی چاہیئے۔ صوبائی حکومت کے ہائوسنگ سوسائٹیز میں پولیس اور میڈیا کے لئے الگ انکلیوز ہوں گے۔ پاک افغان مذاکرات خوش آئند ہیں۔ خیبر پی کے اسمبلی نے وزیراعلی سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے اور شوکت خانم ہسپتال میں علاج کرانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ اپوزیشن اراکین نے بھی حمایت کی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبائی اسمبلی پہنچے جہاں انہوں نے سپیکر چیمبر میں بابر سلیم سواتی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے اور پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ صوبے میں کابینہ نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی پولیس کو نے کہا
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔