قومی کرکٹر صہیب مقصود بڑے فراڈ کا شکار بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
لاہور:
قومی کرکٹر صہیب مقصود کے ساتھ کار شو روم کے مالک نے مبینہ طور پر بڑا فراڈ کردیا۔ کرکٹر کے مطابق ان کی قیمتی گاڑی ان کی اجازت اور اصل کاغذات کے بغیر فروخت کردی گئی۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صہیب مقصود نے بتایا کہ ان کی گاڑی جس کی مالیت تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ روپے ہے شوروم مالک نے فروخت کردی جبکہ اصل کاغذات اب بھی ان کے پاس موجود ہیں۔
Big Fraud Alert???????? https://t.
— Sohaib Maqsood (@sohaibcricketer) October 19, 2025
صہیب مقصود کے مطابق دھوکے باز نے انہیں بدلے میں ایک ایسی گاڑی دی جس کے کاغذات جعلی نکلے اور اس کے ساتھ ساتھ ان سے مزید 70 لاکھ روپے بھی ہتھیا لیے۔
there is guy a showroom owner in multan who has a car showroom in multan who has done Big Fraud with me regarding my car worth 1.4 carore sold my car without documents documents are with me and in return gave me another car with fake Documents and got extra 70 lacs i request…
— Sohaib Maqsood (@sohaibcricketer) October 19, 2025
کرکٹر نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، پنجاب پولیس اور دیگر حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سزا دیں۔
صہیب مقصود نے مزید بتایا کہ آٹھ ماہ بعد انہیں اپنی گمشدہ گاڑی لاہور کے ایک گھر میں ملی لیکن جب انہوں نے اسے واپس لینے کی کوشش کی تو وہاں موجود شخص نے دعویٰ کیا کہ اس نے گاڑی خریدی ہے اور پولیس بھی اسے واپس نہیں لے جا سکتی۔
And when i found My car after 8 months In lahore in one of the house in lahore i went there and said bhai this is my car i dont know who has given it to you or what please return this he said i have paid for this I said if you have Paid where are documents? if you have bought it…
— Sohaib Maqsood (@sohaibcricketer) October 19, 2025
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک قومی کھلاڑی کے ساتھ ایسا فراڈ ہو سکتا ہے تو عام شہری کس حد تک غیر محفوظ ہوں گے۔ سوشل میڈیا صارفین نے صہیب مقصود سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صہیب مقصود
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔