جنگ غزہ میں 20 ہزار سے زائد طلباء اور 1 ہزار37 اساتذہ شہید
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
فلسطینی وزارت تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کیخلاف 7 اکتوبر 2023 کے روز شروع ہونیوالی غاصب صیہونی رژیم کی انسانیت سوز جارحیت میں ابتک 20 ہزار 58 طلباء شہید اور 31 ہزار 139 زخمی ہوئے ہیں اسلام ٹائمز۔ فلسطینی وزارت تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی رژیم کے سفاکانہ حملوں کے آغاز سے لے کر اب تک شہید ہونے والے فلسطینی طلباء کی کل تعداد 19 ہزار 910 سے زائد اور زخمیوں کی تعداد 30 ہزار 97 ہے۔ فلسطینی وزارت تعلیم کے مطابق مغربی کنارے میں 148 طلباء شہید اور 1 ہزار 42 زخمی ہوئے ہیں نیز سفاک اسرائیلی فوج کی جانب سے 846 طلباء کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ فلسطینی وزارت تعلیم نے یہ اعلان بھی کیا کہ مجموعی طور پر فلسطینی اساتذہ و تعلیمی عملے میں سے 1 ہزار 37 افراد شہید اور 4 ہزار 740 زخمی ہوئے ہیں جبکہ مغربی کنارے میں 228 سے زائد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
فلسطینی وزارت تعلیم نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں 179 سرکاری اسکول مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ یونیورسٹی کی 63 عمارتوں کے ساتھ ساتھ 118 سرکاری اسکولوں اور انروا (UNRWA) کے ساتھ منسلک 100 سے زائد اسکولوں کو بھی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بناتے ہوئے شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس بیان کے مطابق قابض صیہونی رژیم نے کل 30 اسکولوں کو ان کے تمام اساتذہ اور طالب علموں کے ہمراہ سرے سے "مٹا" ڈالا ہے۔ فلسطینی وزارت تعلیم کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں الجلیل کے جنوب میں واقع یطا اور طوباس میں واقع العقبہ میں 2 پرائمری سکولوں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ 8 یونیورسٹیوں اور کالجوں کو بھی متعدد حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی وزارت تعلیم نے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔