ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے والےکو عمران خان کی طرح سہولیات دی جائیں، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
راولپنڈی:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے والے کو جیل میں عمران خان کی طرح سہولیات فراہم کی جائیں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد وکیل فیصل ملک کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ علیمہ خان نے کہا کہ آپ سب سوال پوچھ رہے ہیں کہ پشاور میں کابینہ نہیں بنے گی، کیا وفاقی حکومت کو فکر نہیں کہ آپ ایک وزیراعلی کو بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ وزیراعظم سے کیوں سوال نہیں کرتے کہ اگر ان کو اپنے ملک کی فکر ہے، بانی ایک پارٹی کے سربراہ ہیں، اس کا کام بنتا ہے کہ وہ اپنے وزیر اعلیٰ سے مشاورت کرسکیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ آصف زرداری صاحب جب کراچی جیل میں تھے تو ان کا بہت زبردست صحن تھا جہاں وہ شام کو بیٹھ کر چائے پیتے تھے، نواز شریف کو ساری سہولیات تھیں، آپ یہ سمجھیں کہ ان کے کمرے میں اے سی لگا ہوا تھا لیکن بانی پی ٹی آئی کا چکی کا سیل ہے وہاں اے سی نہیں لگتا۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی دو سال سے ڈیتھ سیل میں ہیں، پولیس والے کہتے ہیں کہ آج تک قید تنہائی میں بانی کی طرح کسی کو نہیں دیکھا، چکی کے کمرے کا سائز 8بائی 10 ہے، بانی کو کسی سے ملاقات کی اجازت نہیں تو اس کا مطلب وہ قید تنہائی میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس نے ہائی کورٹ میں پٹیشن کی کہ اسے عمران خان کی طرح سہولیات دی جائیں، اسے سہولیات دے دیں تو وہ روئے گا۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی کا پیغام اڈیالہ سے باہر دینے پر میرے خلاف تھانہ صادق آباد میں مقدمہ درج ہوا، میں نے وہ پیغام 22نومبر کو آپ کو دیا تھا، میں پھر سے کہتی ہوں میں اکیلے نہیں جاؤں گی۔
میڈیا کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ میں نے پیغام آپ کو دیا تھا جرم آپ نے کیا ہے کیوں کہ آپ نے اسے عوام تک پہنچایا ہے، ہم فیصلہ کر رہے ہیں کس کو کیا کرنا ہے، اگر میں جیل چلی جاؤں تو ہمیں اور ٹیم تیار چاہیے۔
علیمہ خان نے کہا کہ فیصل ملک جو پیغام دے رہے ہیں، ہم اس کی تصدیق کرکے پہنچا رہے ہیں۔
عمران خان نے خیبرپختونخوا کی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے ہدایات دی ہیں، فیصل ملک
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل فیصل ملک نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں آج صرف وکلا میں سے مجھے جانے دیا گیا اور باقی کسی کو اجازت نہیں دی گئی، علیمہ خان کو آج ملاقات سے روکا گیا تاہم باقی دو بہنوں کی ملاقات ہوئی، عمران خان نے سب سے پہلے اپنے مینڈیٹ کی بات کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی نے کہا ہے خیبرپختونخوا میں ان کا مینڈیٹ ہے، پالیسی بنانا ان کا آئینی حق ہے، بانی نے کہا ہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ان سے ملاقات کرنے سے روکا جا رہا ہے، یہ عمل بانی کو ان کے آئینی اور جمہوری حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
وکیل نے بتایا کہ نواز شریف کو جیل میں دوران قید ملاقاتوں اور آرڈیننس پر دستخط کی اجازت تھی، نواز شریف کی فیملی باقاعدگی سے ملاقات کرتی تھی اور دعوتیں تک ہوتی تھیں لیکن عمران خان کو نہ اہل خانہ سے ملنے دیا جا رہا ہے اور نہ پارٹی رہنماؤں سے ملنے کی اجازت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو بنیادی جیل سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، جیل مینول کے مطابق سہولتیں نہیں دی جا رہی ہیں، 10 ماہ میں ان کی بیٹوں سے صرف ایک بار بات کرائی گئی ہے۔
فیصل ملک نے بتایا کہ ٹی وی اور اخبارات جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں، قانونی ٹیم جلد اس حوالے سے عدالت سے رجوع کرے گی اور عمران خان نے تمام وکلا کو عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کی ہدایت کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت جلد کروانے کی کوشش کی جائے گی،10 مہینوں سے القادر کیس کی باقاعدہ سماعت نہیں ہو رہی ہے، بانی پی ٹی آئی نے پارٹی کو آئینی دائرے میں رہ کر کردار ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کابینہ کی تشکیل بانی پی ٹی آئی کا مینڈیٹ ہے، خان صاحب کا حق ہے کہ اپنی پسند کے وزرا تعینات کریں۔
فیصل ملک نے کہا کہ سیاسی امور پر ہدایات سلمان اکرم راجا کے ذریعے پارٹی کو دی جائیں گی، پارٹی پالیسی اور مستقبل کی حکمت عملی سلمان اکرم راجہ بیان کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی کابینہ نہیں بن رہی ہے تو ذمہ داری کس کی ہے، جیل کس کے ماتحت ہے، ملاقاتوں سے کیوں روکا جا رہا ہے، بانی پی ٹی آئی نے کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے ہدایات دی ہیں، بیرسٹر سلمان اکرم راجا ان کی ہدایات پارٹی تک پہنچائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علیمہ خان نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سے ملاقات فیصل ملک جیل میں رہے ہیں کی طرح
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔