اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی، رفح میں فضائی اور زمینی حملوں میں شہادتیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسرائیل نے غزہ امن منصوبے کے تحت سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رفح کے علاقے میں فضائی حملہ کیا ہے جبکہ دیگر علاقوں میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مزید پانچ فلسطینی شہید ہوگئے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے اتوار کے روز غزہ پر فضائی اور زمینی حملے کیے، جس میں دو فسلطینی شہید ہوئے، اس کے علاوہ وسطی غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے پانچ فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا اور مقامی ذرائع کے مطابق، غزہ کے جنوبی علاقوں رفح اور خان یونس میں زوردار دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی گئیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی ٹینکوں نے اباسن کے علاقے میں شدید فائرنگ کی جبکہ دوپہر کے وقت رفح پر فضائی حملے جاری رہے۔ غزہ کے محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ شمالی علاقے جبالیا میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید ہوگئے۔
اسرائیلی فوج نے تاحال حملوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی تاہم ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فورسز نے رفح میں عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد کارروائی کی۔
ٹائمز آف اسرائیل سے گفتگو ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ حماس نے اسرائیلی فوج پر راکٹ اور اسنائپر سے حملہ کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس پر جواب دیا گیا ہے۔
دوسری جانب حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
اُدھر فلسطین کے وزارت صحت نے بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 18 فلسطینی شہید ہوئے جس کے بعد 7 اکتوبر 2023 سے اب تک ہونے والی شہادتوں کی مجموعی تعداد 68 ہزار 159 تک پہنچ گئی جبکہ 1 لاکھ 70 ہزار 200 سے زائد زخمی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج فلسطینی شہید کی خلاف ورزی
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔