نرگس کی مکہ مکرمہ میں مولانا طارق جمیل سے ملاقات؛ دعا کریں بار بار اللہ کے گھر آؤں
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ماضی کی معروف اسٹیج رقاصہ اور اداکارہ نرگس نے اپنے بیوٹی پارلر میں کام کرنے والی تمام خواتین کو اپنے ہمراہ عمرہ کروایا۔
نرگس نے نیکی کے اس سفر کے دورام ممتاز اسلامی اسکالر مولانا طارق جمیل سے بھی مکہ مکرمہ میں ملاقات کی۔
اداکارہ نرگس کی زندگی میں تبدیلی اور مذہب کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان میں مولانا طارق جمیل کا اہم کردار رہا ہے۔
انسٹاگرام پر نرگس نے مولانا طارق جمیل سے ہونے والی ملاقات کی ویڈیو اپ لوڈ کی ہے جس میں وہ برقع پہنے ہوئے ہیں اور بالکل ایک الگ شخصیت نظر آ رہی ہیں۔
اس ویڈیو میں نرگس نے بتایا کہ میری خوش قسمتی تھی جب میں نے اپنا پہلا حج 2006 میں مولانا طارق جمیل صاحب کے ساتھ کیا تھا۔
View this post on InstagramA post shared by Ghazala Idrees (@nargisjiofficial)
نرگس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا کہ آج کافی عرصے کے بعد دوبارہ طارق جمیل صاحب سے ملاقات ہوئی۔
نرگس کے بقول انھوں نے مولانا طارق جمیل کا بیان سنا اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے، جسے میں اپنی عملی زندگی کا حصہ بناؤں گی۔
اس موقع پر اداکارہ نرگس نے مولانا طارق جمیل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میرے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور مذہب سے روشناس کرایا۔
اداکارہ نے مولانا طارق جمیل سے درخواست کی کہ آپ میرے لیے، میری اولاد اور میرے شوہر کے لیے خاص دعا کر دیں۔
جس پر مولانا صاحب نے دعا کرائی اور ساتھ نرگس سے کہا کہ آپ نے اپنے بیوٹی پارلر کے عملے کو حج اور عمرہ کروایا ہے۔ یہ بہت نیک کام کیا ہے۔
مولانا طارق جمیل نے کہا کہ میں دعاگو ہوں کہ اللہ آپ کو دین پر چلنے کی مزید استقامت اور توفیق دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مولانا طارق جمیل سے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔