ویب ڈیسک: جمعیۃ علماء ہند کے تلنگانہ و آندھرا پردیش کے صدر ممتاز عالمِ دین اور سماجی کارکن مولانا حافظ پیر شبیر احمد کا انتقال کرگئے۔

 مولانا حافظ پیر شبیر احمد نے متحدہ آندھرا پردیش کی قانون ساز کونسل کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے مسلمانوں کے تعلیمی، سماجی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے موثر آواز بلند کی۔

 جماعت اسلامی ہند تلنگانہ کے امیر محمد اظہرالدین نے مولانا حافظ پیر شبیر احمد کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ایک مخلص، باعمل اور انسان دوست عالم دین تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت، ملت کی رہنمائی اور انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کر دی تھی۔

قتل میں ملوث اشتہاری ملزم سعودی عرب سے گرفتار

 اظہرالدین نے کہا کہ مولانا کی شخصیت اخلاص، علم، تقویٰ اور استقامت کا نمونہ تھی، وہ جمعیت العلماء ہند کے پلیٹ فارم سے کئی دہائیوں تک نہ صرف تلنگانہ و آندھرا بلکہ پورے ملک میں دینی، تعلیمی، اصلاحی اور سماجی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔

 مولانا مرحوم نے رکن قانون ساز کونسل اور حج کمیٹی کے صدرنشین کی حیثیت سے بھی مسلمانوں کے مسائل کے حل میں سرگرم کردار ادا کیا۔ انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، ملی اتحاد اور دین اسلام کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

علی ظفر کو امریکا میں ’کلچرل آئیکون ایوارڈ‘ سے نواز دیا گیا

 اظہرالدین نے اپنے بیان میں کہا کہ مولانا کی رحلت سے ملت اسلامیہ ایک بڑے رہنما، شفیق بزرگ اور بے لوث قائد سے محروم ہو گئی ہے اور ان کا خلا آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا۔

 مولانا کے صاحبزادے پیر ارشاد احمد ناصر یوتھ کانگریس کے سینئر رہنما ہیں اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی امور کے قومی کنوینر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، ایک اور فرزند پیر منیر جابر بھی حیدرآباد یوتھ کانگریس کے متحرک قائدین میں شمار ہوتے ہیں۔

پریکٹس میں آنکھ پر گیند لگی، ڈاکٹر نے کہا کئی ماہ کرکٹ نہیں کھیل سکوں گا؛ آصف آفریدی

 مولانا کے بیٹے حافظ پیر خلیق احمد کے مطابق نمازِ جنازہ سنتوش نگر میں ادا کی  گئی، ان کی رحلت پر ریاست بھر میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے، اور مختلف دینی، ملی اور سیاسی تنظیموں کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: مولانا حافظ پیر شبیر احمد

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے