اب آرمی چیف کی ریٹارمنٹ کی عمر نہیں ہے: رانا ثناء اللہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سی ڈی ایف کی اہم تعیناتی کیلئے ترامیم کی گئیں، اب آرمی چیف کی ریٹارمنٹ کی عمر نہیں ہے، سی ڈی ایف کی مدت پانچ سال ہے، پانچ سال بعد بھی دوبارہ تعیناتی ہوسکتی ہے۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہناتھا کہ 29نومبر کو گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ضرورت نہیں تھی، گزٹ نوٹیفکیشن تو پہلے سے ہوا تھا، بار کونسل کے نمائندے کو بار منتخب کرتی ہے، بار کونسل کا نمائندہ حکومت کا نمائندہ نہیں ہوتا، بار کونسل کے نمائندے الیکٹ ہو کر آتےہیں۔
بھارت: محبت کی شادی کرنیوالی نئی نویلی دلہن سسرال میں مردہ پائی گئی
سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ 26ا ور 27ویں ترامیم کی منظوری کیلئے ہتھکنڈے استعمال ہوئے، غیر منتخب حکومت نے ایسی ترامیم منظور کیں، انہوں نے اعلیٰ عدلیہ کو بھی سرکاری ادارہ بنا دیا ہے، جب یہ ترمیم ہوئی یہ سب طے تھا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :