گلگت، سیلابی بحالی منصوبوں کی نگرانی کے لیے مشترکہ ویریفکیشن ٹیموں کی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
یہ ٹیمیں مکمل اور جاری منصوبوں کے معیار، حدود اور پیش رفت کا جائزہ لیں گی، فیلڈ انسپیکشن کریں گی، خامیوں اور نقصانات کی نشاندہی کریں گی، اور تصویری و بیانیہ رپورٹس تیار کریں گی۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت گلگت بلتستان نے ہنگامی بنیادوں پر جاری سیلابی تحفظ اور بحالی کے منصوبوں کی جامع اور شفاف جانچ کے لیے مختلف ڈویژنوں میں مشترکہ ویریفکیشن ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ و جیل خانہ جات گلگت بلتستان سیکریٹریٹ کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ مالی سال 2025–26ء کے دوران گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں جاری ہنگامی سیلابی بحالی منصوبوں کے معیار، شفافیت اور تکنیکی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ تشکیل شدہ ٹیموں میں ٹیم اے بلتستان ڈویژن جس کے چیئرمین ڈائریکٹر جنرل جی بی ڈی ایم اے زاکر حسین ہونگے۔ ٹیم بی گلگت ڈویژن کے چئیرمین ایڈیشنل کمشنر ولی اللہ فلاحی جبکہ دیامر استور ڈویژن کی ٹیم کے چیئرمین ڈپٹی ڈائریکٹر جی بی ڈی ایم اے طاہر الدین بابر ہوں گے۔ یہ ٹیمیں مکمل اور جاری منصوبوں کے معیار، حدود اور پیش رفت کا جائزہ لیں گی، فیلڈ انسپیکشن کریں گی، خامیوں اور نقصانات کی نشاندہی کریں گی، اور تصویری و بیانیہ رپورٹس تیار کریں گی۔ مزید یہ کہ ٹیمیں دو ہفتوں کے اندر اپنی جامع حتمی رپورٹ جمع کرائیں گی جس میں تمام سفارشات، خامیاں اور اصلاحی اقدامات شامل ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کریں گی
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔