data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے ڈراز باضابطہ طور پر جاری کر دیے۔

تفصیلات کے مطابق دنیا کی 48 ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس سب سے بڑے مقابلے کی بساط باضابطہ طور پر بچھ گئی ہے، آئندہ برس امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی میزبانی میں ہونے والے ایونٹ کے لیے ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ کا امتزاج شائقین کے جوش و تجسس کو مزید بڑھا رہا ہے۔

ابتدائی گروپس کی بات کی جائے تو گروپ اے میں میزبان میکسیکو کو جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا اور پلے ڈی کی کوالیفائر ٹیم کا چیلنج درپیش ہوگا۔
گروپ بی میں میزبان کینیڈا کے ساتھ قطر، سوئٹزرلینڈ اور یو ایفا پلے آف اے کی جیتنے والی ٹیم شامل کی گئی ہے، جس کے لیے ویلز اور نادرن آئرلینڈ کے درمیان مقابلہ فیصلہ کن ہوگا۔

گروپ سی بھی خاصا توجہ طلب ہے، جس میں برازیل، مراکش، اسکاٹ لینڈ اور ہیٹی کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔
دوسری جانب گروپ ڈی کی قیادت میزبان امریکا کر رہا ہے جبکہ یہاں آسٹریلیا، پیراگوئے اور یو ایفا پلے آف سی سے آنے والی ٹیم شامل ہوگی۔

گروپ ای میں سابق عالمی چیمپیئن جرمنی کے ساتھ ایکواڈور، آئیوری کوسٹ اور کوراکاو کی ٹیمیں موجود ہیں، جبکہ گروپ ایف میں نیدرلینڈز، جاپان، تیونس اور یو ایفا کوالیفائر بی کی ٹیم مدِمقابل ہوگی۔

دلچسپ جوڑوں میں سے ایک گروپ جی ہے، جس میں بیلجیم، ایران، مصر اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔
اسی طرح گروپ ایچ میں تجربہ کار اسپین کے ساتھ سعودی عرب، یوروگوئے اور کیپ وردے کا ملاپ دیکھنے کو ملے گا۔

اگلا مرحلہ گروپ آئی کا ہے جہاں مضبوط فرانس، سینیگال، ناروے اور فیفا پلے آف 2 کی کوالیفائر ٹیم آمنے سامنے ہوں گی۔
گروپ جے میں دفاعی چیمپیئن ارجنٹینا کے ساتھ آسٹریا، الجیریا اور اردن کو رکھا گیا ہے، جو اس گروپ کو خاصا مقابلہ انگیز بنا دیتا ہے۔

گروپ کے میں پرتگال، ازبکستان، کولمبیا اور فیفا کوالیفائر ون سے آنے والی ٹیم شامل ہوگی، جبکہ آخری گروپ ایل میں انگلینڈ، کروشیا، پانامہ اور گھانا کا ٹکراؤ ہوگا۔

ورلڈ کپ ڈراز کی یہ شان دار تقریب امریکا میں منعقد ہوئی، جس میں عالمی فٹبال شخصیات کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خصوصی شرکت کر کے ایونٹ کی اہمیت میں اضافہ کیا۔

یوں ڈراز کے اعلان کے بعد ورلڈ کپ کے سنسنی خیز مقابلوں کا انتظار مزید شدت اختیار کر گیا ہے، اور شائقین فٹبال اب اس بات کے لیے بے تاب ہیں کہ اگلے سال یہ عالمی میلہ کیا نئے رنگ دکھائے گا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ورلڈ کپ کے ساتھ

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار