Express News:
2026-06-03@07:35:46 GMT

قرض کے مضر اثرات

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

جب آپ صبح سویرے اٹھ کر شہر کی سڑکوں پر قدم رکھتے ہیں تو ٹوٹی ہوئی سڑکیں ارد گرد ٹوٹی پھوٹی بسیں ویگنیں، رکشے، بجلی کی ٹوٹی ہوئی تاریں، اجاڑ پارک، ریلوے اسٹیشن کی پرانی قدیم عمارتیں اور بہت کچھ اشارہ کر رہی ہوتی ہیں کہ پاکستان ایک غریب ترین ملک ہے۔ یہاں کے عوام کی مفلوک الحالی پچکے ہوئے چہرے، بچوں کی سوکھی ٹانگیں، بوڑھوں کی پریشان جبینیں اور بہت کچھ سدا بہار مفلسی کا فسانہ سنا رہے ہوتے ہیں۔

ایک طرف عوام کی مفلوک الحالی، دوسری طرف معاشی ترقی کے بیانیے، ترسیلات زرکے اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ قرض کے لامتناہی سلسلے کی کہانی اور اس پر آئی ایم ایف کی طرف سے مزید قسطوں کے اجرا پر خوشی کا اظہار، ورلڈ بینک سے قرض وصولی پر اطمینان کا شکرانہ، یوں معلوم دیتا ہے کہ جیسے جیسے شرح سود پر قرض کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے، ہر حکومت کی خوشی اسی میں ہوتی ہے کہ حکومت قائم رکھنے کے لیے جتنا ہو قرض لیا جائے۔ فکر کی کوئی بات نہیں ہوتی کیونکہ قرض حکومت لیتی ہے اور قرض کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔

ایک ماہ قبل اخباری اطلاع کے مطابق سوا تین لاکھ روپے کا مقروض ہر شہری ہے۔ ایک اور اطلاع کے مطابق ساڑھے تین لاکھ روپے فی شہری پر قرض کا بوجھ ہے۔

قرض کے ساتھ قرض پر سودکا بوجھ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اکثر قرض اتنا ہی رہتا ہے لیکن سود کی ادائیگی میں اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں جو قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ نگل رہے ہیں، لیکن قرض کی ادائیگی میں فی شہری پر جس طرح سے قرض کا بوجھ ساڑھے تین لاکھ تک ہے تو اس میں امیر غریب، بچے بوڑھے، جوان، مرد و زن کے درمیان سادات کا قانون نافذ کیا جاتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ قرض کی ادائیگی ایک ایسا فرض ہے جس میں ہر شہری برابر ہے۔

چلیے ایک موقع پر ایک بات ایسی سامنے آ گئی جس میں سب کے حقوق برابر ہیں، لیکن قرض کے بار اور قرض کے بوجھ کے اثرات کے تحت غریب اور امیر ہر اثرانداز ہوتے ہیں۔ قرض نے بھی ستم ظریفی دکھائی ہے کیونکہ قرض کا بوجھ ان شہریوں پر زیادہ مضر اثرات مرتب کرتا ہے جو پہلے ہی غریب ہیں، مفلوک الحال ہیں، مزدور ہیں، بے روزگار ہیں۔

اس قرض کے بوجھ کو غریب کمزور طبقات کے لیے مارکیٹ کی ناکامی کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کی معیشت نے یہ ثابت بھی کر دیا ہے،کیونکہ معاشی نظام میں قرض کے غالب ہونے، شرح سود کی رقوم میں اضافے یعنی بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ اس کے لیے مختص کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ نظام غریب کو مزید غریب بنا رہا ہے ایک طرف ترقیاتی اخراجات میں مسلسل کمی ہو رہی ہے جس سے ملک اب فلاحی مملکت کی حیثیت سے گر کر درآمدی معیشت والی حیثیت اختیار کیے جا رہا ہے جس سے غریب مزید غریب یا مزدور کا بچہ مزدور، بے روزگاری ہونے کے باعث زمین پر غیر پیداواری محنت کا حصہ بڑھ رہا ہے۔

مثلاً کسی بوڑھے بابا کی 5 بیگھہ زمین ہے یا اس کے پاس 15 ایکڑ زمین ہے بوڑھے بابا نے زمینداری چھوڑ دی۔ اب اس کے جوان بیٹے زمین کو سنبھالتے ہیں۔ فرض کیا اس پر پہلے ہی تین بیٹے کام کر رہے ہیں اب چوتھا بیٹا روزگار کی تلاش میں بڑے شہرگیا، چند ہفتوں کے بعد اس نے واپس آ کر شاید یہ بتایا ہوگا کہ شہر میں کارخانوں کو تالے لگ گئے ہیں اور جو کارخانے کام کر رہے ہیں، ان میں مزدوروں کی قطار لگ جاتی ہے۔

شام کو اس قطار میں سے محض چند افراد کو کام پر رکھ لیا جاتا ہے، باقی سے معذرت کر لی جاتی ہے۔ بابا نے شاید یہ پوچھا ہو کہ بند کارخانوں کے سیٹھ صاحبان اب کیا کرتے ہیں اس نے جو باتیں شہر جا کر سنی تھیں وہ اپنے والد بزرگوار کو سنا دیں کہ بہت سے مل والے بنگلہ دیش چلے گئے ہیں اور چند دیگر ملکوں کو، زیادہ تر دبئی جا کر کوئی کاروبار کر رہے ہیں اور جو رہ گئے انھوں نے اپنے کارخانوں کو گودام میں تبدیل کر دیا۔ کہیں گندم کی بوریاں ذخیرہ کر دی جاتی ہیں۔

کہیں آٹا، گھی، چینی، دال اورکہیں کئی اقسام کے پھل جب ماہ رمضان المبارک آتا ہے تو بڑے لوگ بڑھتے ہوئے داموں میں ان سب کو فروخت کر دیتے ہیں اور مارکیٹ میں کبھی آٹے کی قلت کبھی دال کبھی گھی کبھی چینی کی قلت دور کرنے پر زیادہ سے زیادہ دام لے کر آٹا چینی چاول،گھی، دالیں فروخت کر دی جاتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ منافع بھی کما لیا اور حکومتی طرح طرح کے قانون کے باعث تنگ آئے ہوئے کارخانہ داروں کا بغیرکسی جھنجھٹ کے کروڑوں روپے کمانے کا ہنر بھی ہاتھ آگیا یا پھر پلاٹ کی خرید و فروخت کرتے کرتے چند لاکھ کا پلاٹ اب کروڑوں روپے کا ہو گیا ہے۔ بوڑھے کسان نے ایک لمبی آہ بھری ہوگی اور کہا ہوگا کہ ٹھیک ہے جب ملک کے معاشی نظام کو سود کے بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے تو ایسی صورت میں ملک میں روزگار کیسے آئے گا، مہنگائی بڑھتی چلی جائے گی اور لوگ غریب سے غریب تر ہوتے چلے جائیں گے۔

اب وہ بیٹا بھی چھوٹے سے قطعہ زمین پر بھائیوں کا ہاتھ بٹانے لگ جاتا ہے۔ اب ایک قطعہ زمین پر زیادہ سے زیادہ دو ہی افراد کافی تھے، اب اس میں چار افراد جب کام کریں گے تو دو افراد بے روزگاری کے ضمن میں آ جاتے ہیں کیونکہ زمین نے اتنی ہی پیداوار دینی ہے۔

مزید دو افراد زمین کی پیداوار میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ بوڑھے کسان کے پوتے کسی کی عمر 12 سال کسی کی عمر 15 سال ہے تو اسے خیال آتا ہوگا کہ جلد ہی اس کھیت پر مزید دو افراد کا بوجھ آن اترے گا۔ یوں کل 6 افراد چھوٹے سے قطعہ زمین پر راج کریں گے۔ پہلے جیسی مقدار میں اناج اٹھائیں گے یوں معاشرے میں افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، آبادی بڑھتی جا رہی ہے ملک میں بتدریج غریب افراد کا مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ قرض کا بوجھ ہے جس نے غریب افراد کی آبادی میں مسلسل اضافہ کر دیا ہے اور اس کے ساتھ سود کی رقم بڑھتی چلی جا رہی ہے اور یہ سود ہی ہے جو معیشت کو نگل رہا ہے غریب اور امیر کا فرق بڑھا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قرض کا بوجھ افراد کا رہے ہیں جاتا ہے ہیں اور قرض کے ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم