Express News:
2026-07-24@03:39:25 GMT

قرض کے مضر اثرات

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

جب آپ صبح سویرے اٹھ کر شہر کی سڑکوں پر قدم رکھتے ہیں تو ٹوٹی ہوئی سڑکیں ارد گرد ٹوٹی پھوٹی بسیں ویگنیں، رکشے، بجلی کی ٹوٹی ہوئی تاریں، اجاڑ پارک، ریلوے اسٹیشن کی پرانی قدیم عمارتیں اور بہت کچھ اشارہ کر رہی ہوتی ہیں کہ پاکستان ایک غریب ترین ملک ہے۔ یہاں کے عوام کی مفلوک الحالی پچکے ہوئے چہرے، بچوں کی سوکھی ٹانگیں، بوڑھوں کی پریشان جبینیں اور بہت کچھ سدا بہار مفلسی کا فسانہ سنا رہے ہوتے ہیں۔

ایک طرف عوام کی مفلوک الحالی، دوسری طرف معاشی ترقی کے بیانیے، ترسیلات زرکے اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ قرض کے لامتناہی سلسلے کی کہانی اور اس پر آئی ایم ایف کی طرف سے مزید قسطوں کے اجرا پر خوشی کا اظہار، ورلڈ بینک سے قرض وصولی پر اطمینان کا شکرانہ، یوں معلوم دیتا ہے کہ جیسے جیسے شرح سود پر قرض کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے، ہر حکومت کی خوشی اسی میں ہوتی ہے کہ حکومت قائم رکھنے کے لیے جتنا ہو قرض لیا جائے۔ فکر کی کوئی بات نہیں ہوتی کیونکہ قرض حکومت لیتی ہے اور قرض کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔

ایک ماہ قبل اخباری اطلاع کے مطابق سوا تین لاکھ روپے کا مقروض ہر شہری ہے۔ ایک اور اطلاع کے مطابق ساڑھے تین لاکھ روپے فی شہری پر قرض کا بوجھ ہے۔

قرض کے ساتھ قرض پر سودکا بوجھ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اکثر قرض اتنا ہی رہتا ہے لیکن سود کی ادائیگی میں اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں جو قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ نگل رہے ہیں، لیکن قرض کی ادائیگی میں فی شہری پر جس طرح سے قرض کا بوجھ ساڑھے تین لاکھ تک ہے تو اس میں امیر غریب، بچے بوڑھے، جوان، مرد و زن کے درمیان سادات کا قانون نافذ کیا جاتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ قرض کی ادائیگی ایک ایسا فرض ہے جس میں ہر شہری برابر ہے۔

چلیے ایک موقع پر ایک بات ایسی سامنے آ گئی جس میں سب کے حقوق برابر ہیں، لیکن قرض کے بار اور قرض کے بوجھ کے اثرات کے تحت غریب اور امیر ہر اثرانداز ہوتے ہیں۔ قرض نے بھی ستم ظریفی دکھائی ہے کیونکہ قرض کا بوجھ ان شہریوں پر زیادہ مضر اثرات مرتب کرتا ہے جو پہلے ہی غریب ہیں، مفلوک الحال ہیں، مزدور ہیں، بے روزگار ہیں۔

اس قرض کے بوجھ کو غریب کمزور طبقات کے لیے مارکیٹ کی ناکامی کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کی معیشت نے یہ ثابت بھی کر دیا ہے،کیونکہ معاشی نظام میں قرض کے غالب ہونے، شرح سود کی رقوم میں اضافے یعنی بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ اس کے لیے مختص کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ نظام غریب کو مزید غریب بنا رہا ہے ایک طرف ترقیاتی اخراجات میں مسلسل کمی ہو رہی ہے جس سے ملک اب فلاحی مملکت کی حیثیت سے گر کر درآمدی معیشت والی حیثیت اختیار کیے جا رہا ہے جس سے غریب مزید غریب یا مزدور کا بچہ مزدور، بے روزگاری ہونے کے باعث زمین پر غیر پیداواری محنت کا حصہ بڑھ رہا ہے۔

مثلاً کسی بوڑھے بابا کی 5 بیگھہ زمین ہے یا اس کے پاس 15 ایکڑ زمین ہے بوڑھے بابا نے زمینداری چھوڑ دی۔ اب اس کے جوان بیٹے زمین کو سنبھالتے ہیں۔ فرض کیا اس پر پہلے ہی تین بیٹے کام کر رہے ہیں اب چوتھا بیٹا روزگار کی تلاش میں بڑے شہرگیا، چند ہفتوں کے بعد اس نے واپس آ کر شاید یہ بتایا ہوگا کہ شہر میں کارخانوں کو تالے لگ گئے ہیں اور جو کارخانے کام کر رہے ہیں، ان میں مزدوروں کی قطار لگ جاتی ہے۔

شام کو اس قطار میں سے محض چند افراد کو کام پر رکھ لیا جاتا ہے، باقی سے معذرت کر لی جاتی ہے۔ بابا نے شاید یہ پوچھا ہو کہ بند کارخانوں کے سیٹھ صاحبان اب کیا کرتے ہیں اس نے جو باتیں شہر جا کر سنی تھیں وہ اپنے والد بزرگوار کو سنا دیں کہ بہت سے مل والے بنگلہ دیش چلے گئے ہیں اور چند دیگر ملکوں کو، زیادہ تر دبئی جا کر کوئی کاروبار کر رہے ہیں اور جو رہ گئے انھوں نے اپنے کارخانوں کو گودام میں تبدیل کر دیا۔ کہیں گندم کی بوریاں ذخیرہ کر دی جاتی ہیں۔

کہیں آٹا، گھی، چینی، دال اورکہیں کئی اقسام کے پھل جب ماہ رمضان المبارک آتا ہے تو بڑے لوگ بڑھتے ہوئے داموں میں ان سب کو فروخت کر دیتے ہیں اور مارکیٹ میں کبھی آٹے کی قلت کبھی دال کبھی گھی کبھی چینی کی قلت دور کرنے پر زیادہ سے زیادہ دام لے کر آٹا چینی چاول،گھی، دالیں فروخت کر دی جاتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ منافع بھی کما لیا اور حکومتی طرح طرح کے قانون کے باعث تنگ آئے ہوئے کارخانہ داروں کا بغیرکسی جھنجھٹ کے کروڑوں روپے کمانے کا ہنر بھی ہاتھ آگیا یا پھر پلاٹ کی خرید و فروخت کرتے کرتے چند لاکھ کا پلاٹ اب کروڑوں روپے کا ہو گیا ہے۔ بوڑھے کسان نے ایک لمبی آہ بھری ہوگی اور کہا ہوگا کہ ٹھیک ہے جب ملک کے معاشی نظام کو سود کے بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے تو ایسی صورت میں ملک میں روزگار کیسے آئے گا، مہنگائی بڑھتی چلی جائے گی اور لوگ غریب سے غریب تر ہوتے چلے جائیں گے۔

اب وہ بیٹا بھی چھوٹے سے قطعہ زمین پر بھائیوں کا ہاتھ بٹانے لگ جاتا ہے۔ اب ایک قطعہ زمین پر زیادہ سے زیادہ دو ہی افراد کافی تھے، اب اس میں چار افراد جب کام کریں گے تو دو افراد بے روزگاری کے ضمن میں آ جاتے ہیں کیونکہ زمین نے اتنی ہی پیداوار دینی ہے۔

مزید دو افراد زمین کی پیداوار میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ بوڑھے کسان کے پوتے کسی کی عمر 12 سال کسی کی عمر 15 سال ہے تو اسے خیال آتا ہوگا کہ جلد ہی اس کھیت پر مزید دو افراد کا بوجھ آن اترے گا۔ یوں کل 6 افراد چھوٹے سے قطعہ زمین پر راج کریں گے۔ پہلے جیسی مقدار میں اناج اٹھائیں گے یوں معاشرے میں افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، آبادی بڑھتی جا رہی ہے ملک میں بتدریج غریب افراد کا مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ قرض کا بوجھ ہے جس نے غریب افراد کی آبادی میں مسلسل اضافہ کر دیا ہے اور اس کے ساتھ سود کی رقم بڑھتی چلی جا رہی ہے اور یہ سود ہی ہے جو معیشت کو نگل رہا ہے غریب اور امیر کا فرق بڑھا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قرض کا بوجھ افراد کا رہے ہیں جاتا ہے ہیں اور قرض کے ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ