میٹا کا ’میسنجر ایپ‘ سے متعلق بڑا فیصلہ!
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے ونڈوز اور میک ڈیسک ٹاپ صارفین کے لیے میسنجر ایپلیکیشنز کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے 15 دسمبر 2025 کو یہ ایپ غیر فعال کر دی جائے گی جس کے بعد اس پلیٹ فارم کو لیپ ٹاپ یا ڈیسک ٹاپ پی سی پر پیغامات، تصاویر، ویڈیوز، دستاویزات اور دیگر کسی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
البتہ، صارفین کی میسنجر تک رسائی مکمل طور پر ختم نہیں کی جائے گی۔ بلکہ ایپ کے بجائے صارفین فیس بک ڈاٹ کام یا میسنجر ڈاٹ کام پر جا کر سروس استعمال کر سکیں گے۔
کمپنی نے اس متعلق صارفین کو دو ماہ پہلے سے ہی آگاہ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ ایپلی کیشن کے بند ہونے سے قبل متبادل کا بندوبست کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔