مغربی کنارے میں غیرقانونی یہودی آبادکار کے ڈنڈے کے وار سے معمر فلسطینی خاتون شدید زخمی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں ترمس عیا میں ایک 55 سالہ فلسطینی خاتون پر غیرقانونی یہودی آبادکار نے ڈنڈے سے حملہ کر کے اسے شدید زخمی کر دیا۔ واقعے کی ویڈیو امریکی صحافی جیسپر نیتھانیئل نے ریکارڈ کی۔
رپورٹ کے مطابق نقاب پوش آبادکار نے خاتون کے سر پر ڈنڈے کا پہلا وار کیا جس سے وہ بے ہوش ہو گئیں، بعد ازاں اس نے زمین پر گری ہوئی خاتون کو دوبارہ مارا۔ زخمی خاتون کی شناخت ام صالح ابو علیا کے نام سے ہوئی ہے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ ابتدائی طور پر انتہائی نگہداشت یونٹ میں تھیں تاہم اب ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، 97 فلسطینی شہید، 230 زخمی
امریکی صحافی نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی فوجی حملے سے پہلے ہی موقع پر موجود تھے، بعد ازاں فوجی وہاں سے چلے گئے اور آبادکاروں نے حملہ کر دیا۔ اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اہلکاروں نے صورتحال کو قابو میں کیا اور کسی بھی قسم کے تشدد کی مذمت کی۔
ترمس عیا کے 80 فیصد رہائشی امریکی شہری یا مقیم ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس واقعے پر کوئی خاص تبصرہ نہیں کیا تاہم کہا کہ امریکی شہریوں کی سلامتی اس کی اولین ترجیح ہے۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (اوچا) کے مطابق 7 سے 13 اکتوبر کے درمیان مغربی کنارے میں آبادکاروں کے 71 حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں سے نصف زیتون کی فصل سے متعلق تھے۔
یہ بھی پڑھیے: فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے پر اسرائیل کا مغربی کنارے کو قبضے میں لینے پر غور
2025 میں اب تک 3 ہزار سے زائد فلسطینی آبادکاروں کے تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی اسرائیلی تنظیم یش دین کے مطابق 2005 سے 2023 تک آبادکار تشدد کے صرف 3 فیصد مقدمات میں سزا ہوئی، جبکہ بیشتر واقعات کی تحقیقات ہی نہیں کی جاتیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل تشدد غیرقانونی آبادکار فلسطینی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل غیرقانونی آبادکار فلسطینی
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں