اہل کراچی کیلیے خوشخبری، گرین لائن منصوبے کا جلد آغاز، کینٹ اسٹیشن کو جدید بنا دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت کے ترجمان برائے سندھ راجا خلیق انصاری نے اعلان کیا ہے کہ گرین لائن منصوبے پر جلد دوبارہ کام شروع کیا جا رہا ہے، جو شہر کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں نئی جان ڈال دے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اہم میٹنگ میں گرین لائن کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور وہ تمام ادھورے کام جن کی نشاندہی بلدیاتی حکومت نے کی تھی، انہیں جلد مکمل کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راجا خلیق انصاری نے بتایا کہ اگرچہ منصوبے میں ایک ماہ کی تاخیر ہو چکی ہے، تاہم اب یہ ستمبر 2026 تک مکمل ہوگا۔ منصوبے کے تحت جامع کلاتھ کے قریب آخری اسٹیشن تعمیر کیا جائے گا جبکہ راستے میں کیپری سنیما اور پلازہ کے اطراف بھی جدید اسٹیشنز بنائے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے سے کراچی کے مرکزی علاقوں کے باسیوں کو آمدورفت میں نمایاں سہولت حاصل ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ این او سی سے متعلق پیدا ہونے والے تنازع کی نوعیت محض غلط فہمی تھی۔ 2017 میں جاری کی گئی این او سی پر کوئی مدت مقرر نہیں تھی، اس لیے موجودہ انتظامیہ کے خیال میں وہ اب بھی قابلِ عمل ہے۔ میئر صاحب نے این او سی کے حوالے سے جو تحفظات ظاہر کیے تھے، وہ بھی اب دور ہو چکے ہیں۔
وفاقی ترجمان نے مزید بتایا کہ 31 اکتوبر کو کراچی کینٹ اسٹیشن پر جدید سہولتوں سے آراستہ اسٹیٹ آف دی آرٹ اسٹیشن کا افتتاح کیا جائے گا۔ اب کینٹ اسٹیشن ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ ایئرپورٹ پر آ گئے ہوں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت کراچی کے جاری منصوبوں میں بلدیاتی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ لیاری ایکسپریس وے پر فی الحال صرف دیکھ بھال (مینٹی نینس) کا کام جاری ہے اور یہ منصوبہ اپنی موجودہ حالت میں جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔