حکومت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کورم پورا نہ کرسکی، دونوں ایوانوں کے اجلاس ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
حکومت قومی اسمبلی کے اجلاس میں کورم پورا کرنے میں ناکام رہی، جس کے باعث اجلاس شروع ہوتے ہی ملتوی کرنا پڑ گیا۔ اجلاس کا آغاز ہوتے ہی پی ٹی آئی کے رکن محبوب جان نے کورم کی نشاندہی کی، جس پر اسپیکر سردار ایاز صادق نے کارروائی روک دی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں حکومت اور اتحادیوں کے ارکان کی مجموعی تعداد 240 ہے جبکہ اجلاس کے لیے کم از کم 84 ارکان کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔
دوسری جانب سینیٹ میں بھی کورم پورا نہ ہونے کے باعث اجلاس جاری نہ رہ سکا۔ سینیٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر ذیشان خانزادہ نے خطاب میں کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی تو ایوان کا اجلاس نہیں چلنے دیں گے۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے سینیٹر کو تنبیہ کی کہ اس طرح اجلاس کو روکنے کی دھمکیاں نہیں دی جاسکتیں۔ تاہم پی ٹی آئی ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
واک آؤٹ کے بعد سینیٹ میں کورم پورا نہ ہوسکا، جس پر چیئرمین سینیٹ نے اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا۔
دونوں ایوانوں میں یکے بعد دیگرے کورم نہ ہونے سے حکومت اور پارلیمانی سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کورم پورا نہ قومی اسمبلی پی ٹی آئی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔