Jasarat News:
2026-07-24@09:43:57 GMT

کراچی: سہراب گوٹھ میں قائم افغان کیمپ میں 1200 مکانات مسمار

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (مانیٹر نگ ڈ یسک )کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں قائم افغان کیمپ میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے گزشتہ چار دنوں کے دوران افغان باشندوں کے خالی کیے گئے سیکڑوں مکانات مسمار کر دیے ہیں۔ضلع غربی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) طارق الٰہی مستوئی نے بتایا کہ 15 اکتوبر سے شروع ہونے والے آپریشن کے بعد سے اب تک تقریباً 1200 مکانات گرائے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 14 ہزار سے زائد افغان باشندے پہلے ہی اقوام متحدہ کے اس نامزد کردہ کیمپ کو چھوڑ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن اتوار کے روز بھی جاری رہا اور توقع ہے کہ یہ چند دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ایس ایس پی مستوئی نے بتایا کہ پہلے دن قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو مبینہ لینڈ مافیا کی جانب سے معمولی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بعد میں آپریشن بغیر کسی رکاوٹ کے پرامن طور پر جاری رہا۔انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت شروع کیا گیا تھا کیونکہ کچھ عناصر زمین پر غیر قانونی قبضے کی کوشش کر رہے تھے، جس سے امن و امان میں خلل پڑنے کا خدشہ تھا۔یہ زمین ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے ) کی ملکیت ہے۔حکام کے مطابق کیمپ میں پہلے تقریباً 15680 افغان مقیم تھے۔ ان میں سے 1496 اپنے وطن افغانستان واپس جا چکے ہیں، جب کہ باقی 184 ابھی وہاں موجود ہیں جنہیں مرحلہ وار واپس بھیجا جا رہا ہے۔یہ آپریشن ویسٹ زون کے ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی کراچی اور دیگر متعلقہ حکام کو لکھے گئے ایک خط کے بعد شروع کیا گیا، جس میں ان کی توجہ ان لینڈ مافیا گروہوں کی جانب مبذول کرائی گئی تھی جو زمین پر غیر قانونی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ڈی آئی جی نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہوں تاکہ خالی کی گئی سرکاری زمین پر قبضے کی کوششوں کو روکا جا سکے۔یہ افغان کیمپ بے گھر افراد کا سب سے بڑا کیمپ قرار دیا جاتا تھا، جہاں ماضی میں اندازاً 30 ہزار لوگ رہائش پذیر تھے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 

کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے  ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی