وفاقی وزراء کی اہم پریس کانفرنس ، جیل کو توڑا تو ریاست پھر ردعمل دے گی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نےکہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ مجرم ہیں، ان کی ملاقاتیں جیل مینوئل کے تحت ہی ہوسکتی ہیں، اگر کسی نے جیل توڑنےکی کوشش کا سوچا بھی تو ریاست بھرپور ردعمل دےگی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نےکہا کہ قیدی کو سیاسی گفتگو کرنے یا ملاقات کرنے والے کو ملاقات میں ہوئی بات پبلک میں کرنے کی اجازت نہیں، جیل میں ملاقات نگرانی کے بغیر نہیں ہوسکتی، قانون کے مطابق بانی پی ٹی آئی ہفتے میں ایک خط اور ایک ملاقات کرسکتے ہیں، اگر سپرنٹنڈنٹ جیل کو ملاقات سے نقض امن یا انتشار کا خدشہ ہو تو وہ ملاقات روک سکتا ہے۔ایک سوال کےجواب میں اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے جیل توڑنےکی کوشش کا سوچا بھی تو ریاست بھرپور ردعمل دےگی، اس حوالے سے ریاست کے پاس لیگل مکینزم بھی ہے اور ریاست کے پاس طاقت بھی ہوتی ہے، قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا حکم ہے سزا یافتہ قیدی پارٹی سربراہ نہیں رہ سکتا، آج جو قانون ہے یہ وہی ہے جو دہائیوں سے رائج الوقت ہے، نوازشریف، شہبازشریف اور مریم نواز کو ایک جیل میں رکھا گیا لیکن آپس میں ملاقات کی اجازت نہ تھی، وزیراعلیٰ کے پی کا یہ بیانیہ کہ ملاقات کرکے کابینہ بنانی ہے، یہ غیر قانونی ہے، رولز کےمطابق ملاقات میں سیاسی امور پر بات نہیں ہوسکتی، وکیل اور کلائنٹ کی ملاقات قانونی طور پر ضروری ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف کہتے ہیں انصاف چاہیے، پارٹی کا نام تحریک انصاف رکھا ہوا ہے، اور خود ہی اس سے باہر جاتے ہیں، عدالتی فیصلے قانون کے مطابق ہوتے ہیں، سہیل آفریدی کہتے ہیں ایک سزا یافتہ سے مشاورت کرکےکابینہ بنانی ہے، یہ قانون سے مذاق ہوگا کہ جو بادشاہ نہیں بن سکتا وہ بادشاہ بنائے۔اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ سات کمروں پر مشتمل پورا کمپلیکس ہے جو بانی پی ٹی آئی کو ملا ہوا ہے، بانی پی ٹی آئی کوان کی پسندکا کھانا دیا جاتا ہے، چیا سیڈز بھی مینو میں ہیں، باہر سے بھی کھانا آتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ کہنا تھا کہ بانی پی ٹی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔