data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر): پاکستان بزنس فورم نے ملکی سرحدوں پر دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کی بروقت اور مؤثر کارروائیوں کو سراہا ہے۔ فورم کے صدر خواجہ محبوب الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کا کاروباری طبقہ اپنی مسلح افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، جنہوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا یہ کارروائیاں اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں کرے گا۔چیف آرگنائزر چوہدری احمد جواد نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان کے ساتھ خیرسگالی اور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، تعلیم دی، روزگار فراہم کیا۔ آج انہی عناصر کی حمایت سے پاکستان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔سینیئر نائب صدر آمنہ اعوان نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کا موجودہ رویہ خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔یہ رویہ نہ صرف بھائی چارے کے جذبے کے خلاف ہے بلکہ پاکستان کی سیکیورٹی اور ترقی کے لیے براہ راست چیلنج ہے۔ فورم کے مختلف ریجنز کے چیئرمینز جس میں چیئرمین سینٹرل پنجاب ناصر ملک نے کہا کہ افواج پاکستان کی یہ فوری اور مؤثر کارروائی ایک مضبوط پیغام ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔چیئرمین جنوبی پنجاب ملک طلعت سہیل نے کہا کہ ملک کی معاشی ترقی اور امن کے لیے دہشتگردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔چیئرمین خیبرپختونخوا اشفاق پراچہ نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں قومی یکجہتی اور مضبوط موقف کی اشد ضرورت ہے۔چیئرمین بلوچستان درو خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں، اور ہم کسی بھی دہشتگردی کے خلاف بھرپور ساتھ دیں گے۔ پاکستان بزنس فورم کی قیادت نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی اندرونی یا بیرونی سازش کو قوم کے ہر طبقے — خصوصاً کاروباری طبقے — کی مکمل حمایت کے ساتھ ناکام بنایا جائے گا۔ملک میں امن و استحکام ہی ترقی کی بنیاد ہے، اور اس کے لیے ہم ہر محاذ پر اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ پاکستان نے کہا کہ کے خلاف کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم