مسلح افواج کو بروقت کارروائیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، بزنس فورم
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر): پاکستان بزنس فورم نے ملکی سرحدوں پر دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کی بروقت اور مؤثر کارروائیوں کو سراہا ہے۔ فورم کے صدر خواجہ محبوب الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کا کاروباری طبقہ اپنی مسلح افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، جنہوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا یہ کارروائیاں اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں کرے گا۔چیف آرگنائزر چوہدری احمد جواد نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان کے ساتھ خیرسگالی اور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، تعلیم دی، روزگار فراہم کیا۔ آج انہی عناصر کی حمایت سے پاکستان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔سینیئر نائب صدر آمنہ اعوان نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کا موجودہ رویہ خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔یہ رویہ نہ صرف بھائی چارے کے جذبے کے خلاف ہے بلکہ پاکستان کی سیکیورٹی اور ترقی کے لیے براہ راست چیلنج ہے۔ فورم کے مختلف ریجنز کے چیئرمینز جس میں چیئرمین سینٹرل پنجاب ناصر ملک نے کہا کہ افواج پاکستان کی یہ فوری اور مؤثر کارروائی ایک مضبوط پیغام ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔چیئرمین جنوبی پنجاب ملک طلعت سہیل نے کہا کہ ملک کی معاشی ترقی اور امن کے لیے دہشتگردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔چیئرمین خیبرپختونخوا اشفاق پراچہ نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں قومی یکجہتی اور مضبوط موقف کی اشد ضرورت ہے۔چیئرمین بلوچستان درو خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں، اور ہم کسی بھی دہشتگردی کے خلاف بھرپور ساتھ دیں گے۔ پاکستان بزنس فورم کی قیادت نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی اندرونی یا بیرونی سازش کو قوم کے ہر طبقے — خصوصاً کاروباری طبقے — کی مکمل حمایت کے ساتھ ناکام بنایا جائے گا۔ملک میں امن و استحکام ہی ترقی کی بنیاد ہے، اور اس کے لیے ہم ہر محاذ پر اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ پاکستان نے کہا کہ کے خلاف کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
شہدائے جموں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے گریجویٹ کالج بھمبر میں تقریب کا انعقاد
مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرارداووں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اسلام ٹائمز۔ شہدائے جموں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے گریجویٹ کالج بھمبر آزاد کشمیر میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ حریت رہنما ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ، امتیاز احمد بٹ، غلام حسن ملک، عبدالماجد، خالد شبیر، عبدالرشید بٹ، کالج کے پرنسپل اور پروفیسروں سمیت طلباء کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ مقررین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نومبر 1947ء میں لاکھوں مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا جھانسہ دیکر ڈوگرہ فوج، شیو سینا اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے شہید کیا اور خواتین کو اغوا کر کے آبروریزی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ معصوم بچوں کو دریائے توی میں بہایا گیا۔ مقررین نے اسے انسانیت سوز اور ریاستی پشت پناہی میں ہونے والا قتل عام قرار دیا۔ انہوں نے شہدائے جموں سمیت تمام شہدائے جموں و کشمیر کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حصول مقصد تک جدوجہد آزادی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرارداووں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ کشمیریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔