پی ایس ایل ٹیم نیلامی: پی سی بی کی غیر سنجیدہ افراد سے بچنے کے لیے بڈنگ فیس مقرر
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی کے حوالے سے پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے غیر سنجیدہ افراد سے بچنے کے لیے بڈنگ فیس کا نیا طریقہ کار متعارف کرا دیا ہے۔
پی سی بی ذرائع کے مطابق نیلامی میں حصہ لینے والے امیدواروں کو اب دو لاکھ ڈالر قابلِ واپسی جبکہ بیس ہزار ڈالر ناقابلِ واپسی فیس جمع کروانا ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کا مقصد صرف سنجیدہ اور مستند خریداروں کے ساتھ بات چیت کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ بعض افراد اپنی تشہیر کے لیے بھی کاغذات جمع کرانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق پی ایس ایل کی نئی ٹیم خریدنے کے خواہشمند افراد کو بڈنگ فیس اپنی پیشکش کے ساتھ جمع کرانا ہوگی۔
پی سی بی نے دو نئی ٹیموں کی خریداری کے لیے پیشکش جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 دسمبر مقرر کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔