پاکستان نے اقتصادی شعبے میں حاصل کامیابیوں کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرلیا، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے اقتصادی شعبے میں حاصل کامیابیوں کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرلیا ہے۔امریکی چینلCGTN کے ساتھ ایک انٹرویو میںانہوں نے کہا کہ کرنسی مستحکم ہے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر ڈھائی ماہ کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔
وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجیٹ میں آچکی ہے اور پالیسی کی شرح نصف کر دی گئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی ملک کی معاشی کارکردگی کی وجہ سے اس کی عالمی درجہ بندی کو بہتر کیاہے۔
چین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ایک سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ دیرینہ اور آہنی دوستی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ دو طرفہ تجارت کو اگلی سطح تک لے جانے سمیت معدنیات ، کان کنی، زراعت، اے آئی اور آئی ٹی سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پرمبنی ہے۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔