وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اب غیر ملکی سرمایہ کاری کےلیے محفوظ ملک بن چکا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 85 ہزار نئے سرمایہ کار آئے ہیں۔

نومبر میں سندھ کا ٹماٹر آئے گا، قیمتوں میں کمی متوقع

نومبر میں سندھ کی ٹماٹر کی فصل مارکیٹ میں آنے کے بعد قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر کچھ ملٹی نیشنل کمپنیاں گئی ہیں تو کچھ کمپنیاں پاکستان میں آئی بھی ہیں، کمپنیاں بعض اوقات اپنے گلوبل فیصلوں کی وجہ سے بھی واپس چلی جاتی ہیں۔ جانے والی کمپنیوں کے مقابلے میں مقامی کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔ پاکستان اب غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ملک بن چکا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ابوظبی پورٹس اور یو اے ای کی دیگر کمپنیاں آرہی ہیں، معاشی استحکام آیا ہے تو 2 سال میں ہم نے 4 بلین ڈالر کا بیک ڈراپ نکالا ہے۔

ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نکہت شکیل بھی آن لائن فراڈ کا شکار

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی خاتون رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نکہت شکیل بھی آن لائن فراڈ سے نہ بچ سکیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی آبادی کے خطرات سے نمٹا نہ گیا تو ملکی معیشت کو 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب اور اسموگ کی فریکیونسی بڑھتی جارہی ہے، اس کے اثرات معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب کے نقصانات سے قبل جی ڈی پی گروتھ اس سال 4 اعشاریہ 2 کا اندازہ تھا، اس سال کے سیلاب سے 80 فیصد نقصان پنجاب میں ہوا ہے۔

سہیل آفریدی کی آٹا، گندم کی ترسیل کیلئے پنجاب کو خط لکھنے کی ہدایت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی آٹے اور گندم کی آزادانہ ترسیل کے لئے حکومت پنجاب کو خط لکھنے کی ہدایت کردی۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ آج ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں، ریلیف اور ریسکیو اپنے وسائل سے کرسکتے ہیں، تعمیر نو کے لیے ضرورت پڑتی ہے تو ہوسکتا ہے ہم عالمی اداروں کے پاس جائیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایک سوچ یہ بھی ہے کہ کوئی گرانٹ آتی ہے تو وہ لے لینی چاہیے، قرض لے کر تو ہم نے آگے جاکر واپس ہی کرنا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاروں نے پیسے بنائے تو بھجوائے ہیں، ورلڈ بینک نے ٹیکس اصلاحات پر ہماری پریزنٹیشن کی تعریف کی، ورلڈ بینک کے سامنے پریزنٹیشن میں بتایا کہ ٹیکنالوجی سے کرپشن میں کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصر کے وزیرخزانہ نے کہا میں اپنی ٹیم آپ کے پاس بھیجتا ہوں یا آپ اپنی ٹیم بھیجیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ سال ہول سیل، ریٹیلرز سے ٹیکس کلیکشن سو فیصد بڑھی ہے، شوگر، سیمنٹ، تمباکو انڈسٹری میں اضافی ٹیکس ریکور کیا گیا، لوئر، مڈل سیلریڈ کلاس کے لیے انکم ٹیکس میں کمی کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہوگی کہ مستقبل میں دیگر سیلیریڈ کلاسز کو بھی ریلیف دیں۔

انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمتوں پر کوشش ہے کہ ڈی ریگولیشن کی طرف جائیں، 2026ء سےمتعلق پالیسی کا اعلان ہوگا، جس کے بعد گندم کی صوبے سے باہر منتقلی پر پابندی نہیں لگ سکے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر خزانہ نے انہوں نے کہا نے کہا کہ

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس