data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وڑن اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے منشور کی روشنی میں سماجی تحفظ کے فروغ میں دن رات کوشاں ہے۔ سندھ سماجی تحفظ اتھارٹی کے تحت جلد ہی صوبے بھر کے مستحقین افراد کا ڈیٹا نادرا اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ساتھ لنک کرکے مستحقین کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم، صحت سمیت خواتین کو دوران زچگی ہر قسم کی سہولیات فراہم کرسکے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سندھ سماجی تحفظ اتھارٹی کے دفتر میں آکسفورڈ پالیسی مینجمنٹ کے کنسلٹینٹ محمد عثمان چاچڑ اور بلال لاشاری سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر سندھ سماجی تحفظ اتھارٹی کے سی ای او سمیع اللہ شیخ اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ سماجی تحفظ سندھ ایک ایسی پالیسی مرتب کرنا چاہتی ہے، جس کے تحت ہمارے پاس مستحق افراد کے لئے ایک وڑن اور ڈیٹا موجود ہو جو نادرا اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے منسلک ہو اور اس ڈیٹا کے تحت ہم سندھ حکومت کے ماتحت تمام محکموں جس میں صحت، تعلیم، لیبر، پاپولیشن ویلفیئر سب کو استعمال کرکے مستحق افراد بالخصوص خواتین کو سماجی تحفظ فراہم کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک ایسی اسٹیڈی کی جائے کہ اس ڈیٹا میں کہی بھی یہ ڈیٹا ایک ہی جگہ جمع ہو اور ہم مستحقین کو نقد ادائیگی، ان کی ویکسینیشن، دوران زچگی خواتین کی فوری مالی مدد، روزگار، صحت اور تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت صوبہ سندھ میں سماجی تحفظ اتھارٹی کے تحت صوبے کے زیادہ تر اضلاع میں کام کیا جارہا ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ پورے صوبے ہے ایک ایک اضلاع میں موجود مستحقین تک وسیع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وڑن اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے منشور کی روشنی میں سندھ حکومت سماجی تحفظ کے فروغ میں دن رات کوشاں ہے اور ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ایسا ڈیٹا جلد سے جلد مرتب کیا جائے تاکہ مستحقین کی فوری مدد کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس موقع پر آکسفورڈ پالیسی مینجمنٹ کے کنسلٹینٹ محمد عثمان چاچڑ نے کہا کہ اس سلسلے میں جلد ہی تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اسٹیڈی کا کام شروع کردیا جائے گا اور ہماری کوشش ہوگی کہ اس سال کے آخر تک اسٹیڈی کو مکمل کرکے ڈیٹا کو نادرا اور بی آئی ایس پی سے منسلک کردیا جائے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سماجی تحفظ اتھارٹی کے سندھ حکومت نے کہا کہ کے تحت

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم