گورنر راج لگا تو خیبرپختونخوا کا ہر چوک ڈی چوک بن جائے گا، تحریک تحفظ آئین پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پشاور:
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے قومی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کردیا، محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر گورنر راج لگا تو خیبرپختونخوا کا ہر چوک ڈی چوک ہوگا، جج جرنیل، سیاستدانوں، علماء پر مشتمل قومی کانفرنس بلائی جائے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور میں تحریک انصاف کے زیر اہتمام جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس، سابق اسپیکر اسد قیصر، شاہد خٹک، مینا خان، تیمور سلیم جھگڑا، عاطف خان، مصطفی نواز کھوکھر ، شیر علی ارباب، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بھی خطاب کیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حق و باطل کی جنگ کا آخری مرحلہ شروع ہوگیا ہے، تحریک تحفظ آئین پاکستان اور عمران خان یہی جمہوری قوتیں ہیں ہماری تحریک سے ان کے اوسان خطا ہوگئے ہیں، پاکستانی آئین کے مطابق جو آئین توڑتا ہے وہ سیکورٹی رسک ہے، جن لوگوں نے جنگ کو ترک کیا وہ ترقی کررہے ہیں، جنگی جنونیت ختم کرنا ہوگی۔
اچکزئی نے کہا کہ افغانستان والے ہمارے بھائی ہیں ہم ایک زنجیر ہیں، آئین و قانون کی بات کرنے والے کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے، قومی کانفرنس بلائی جائے جس میں جج، جرنیل، علما اکرام اور سیاست دانوں کو بلایا جائے، قومی کانفرنس میں ہم ایک دوسرے کو بخش دیں اور ملک کو بچائیں، ایسا ملک ہو جہاں ہم آزاد ہوں آئین و قانون کی بالادستی ہو، پارلیمنٹ اور عوام کی منتخب اسمبلیاں ریاست ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قومی کانفرنس تحریک تحفظ
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔