اسرائیلی وزیراعظم نے جنرل رومن گوفمین کو موساد کا نیا سربراہ نامزد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے عسکری سیکریٹری، جنرل رومن گوفمین کو ملک کی خفیہ ایجنسی موساد کا نیا سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
العربیہ نیوز کے مطابق گوفمین کے پاس انٹیلی جنس کا باضابطہ تجربہ موجود نہیں، تاہم وہ موجودہ چیف ڈیوِڈ بارنیا کی جگہ جون 2026 میں عہدہ سنبھالیں گے۔
گوفمین 1976 میں بیلاروس میں پیدا ہوئے اور 14 سال کی عمر میں اسرائیل منتقل ہوئے۔ انہوں نے 1995 میں اسرائیلی فوج کے بکتر بند دستے میں شمولیت اختیار کی اور ایک طویل عسکری کیریئر گزارا۔
غزہ جنگ کے آغاز پر وہ قومی انفنٹری ٹریننگ سینٹر کے کمانڈر تھے اور 7 اکتوبر 2023 کو سدیروت میں حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں شدید زخمی بھی ہوئے۔
گوفمین نے اپریل 2024 میں انہوں نے نیتن یاہو کے دفتر میں بطور فوجی سیکریٹری کام کرنا شروع کیا۔
نیتن یاہو نے حال ہی میں شین بیت (داخلی سیکیورٹی ایجنسی) کے سربراہ کے طور پر بھی ایک مذہبی صہیونی پس منظر رکھنے والے افسر ڈیوڈ زینی کا تقرر کیا تھا۔ اسی تسلسل میں گوفمین کی نامزدگی کو بھی نیتن یاہو کی قوم پرستانہ سوچ کے قریب تصور کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ گوفمین عملی مذہبی یہودیوں کی طرح یرمولکا نہیں پہنتے، تاہم وہ مغربی کنارے کی ایک مذہبی یہودی درسگاہ ’ایلی یشیوا‘ میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں جو دائیں بازو کی صہیونی فکر کے لیے مشہور ہے۔
بائیں بازو کے اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے کالم نگار اُری مسگو نے گوفمین کی نامزدگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انٹیلی جنس تجربے کی کمی کے باعث موساد کی سربراہی نہیں ملنی چاہیے تھی، جبکہ ان کے بقول اصل وجہ نیتن یاہو کی وفاداری ہے۔
نیتن یاہو کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا کہ گوفمین قابلِ قدر افسر ہیں اور جنگی حالات میں بطور عسکری سیکریٹری ان کی کارکردگی ان کی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔
موساد کو دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد جہاں دیگر انٹیلی جنس اداروں کے سربراہ مستعفی ہوگئے، وہیں موساد کو اُس ناکامی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا کیونکہ اس کے اختیارات عام طور پر فلسطینی علاقوں تک نہیں پہنچتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔