WE News:
2026-06-03@04:42:30 GMT

افغان طالبان اور ٹی ٹی پی ایک ہیں، ہارون رشید

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

سینیئر صحافی اور افغان امور کے ماہر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان کے بارے میں غلط اندازے لگائے تھے اور وہ اور ٹی ٹی پی ایک ہی ہیں۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے سوچا نہیں تھا کہ شاید ان کو اقتدار مل جائے گا اور پھر اقتدار ملنے کے بعد وہ کس طرح کا رویہ رکھیں گے حالانکہ ہمیں ان کے پہلے دور اقتدار میں ان کے طرز عمل کے کچھ اشارے مل گئے تھے جب انہوں نے ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ مستقل طور پر حل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افغان پالیسی کتنی درست، افغانستان پر ہمارا کنڑول کتنا تھا، سابق کور کمانڈر پشاور کا تبصرہ

ہارون رشید نے کہا کہ اس لیے یہ سمجھنا  کہ وہ پاکستان کے خلاف نہیں جائیں گے تو یہ خام خیالی تھی جو کہ اب بالکل واضح ہو کر اور بڑے تلخ اور کرخت انداز میں ہمارے سامنے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کمیونٹی کے ساتھ مل کر ایک جدوجہد ہوئی، پہلے سوویت یونین کے خلاف اور پھر امریکا کے خلاف، اس کے نتیجے میں جو فتوحات ملی اس میں یقیناً زیادہ حصہ طالبان کا تھا لیکن اس میں جو سپورٹ ساری انٹرنیشنل کمیونٹی کی تھی تو اگر طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خود ہی عالمی قوتوں کو شکست دے لی تھی تو وہ غلط ہیں۔

ہارون رشید کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں افغان طالبان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کے انڈیا کے دورے کی وجہ سے بھی دونوں ممالک کے اختلافات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ ایک ٹرننگ پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تو بالکل اس دورے کو پسند نہیں کیا گیا اور جو ریاستی بیانات سامنے آ رہے ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ ان کے لیے یہ قابل قبول نہیں تھا تو وہاں جانا پھر 7 دن بیٹھنا اور پھر جس طرح کی وہاں سے بات کرنا اس نے میرے خیال میں ٹینشن کو کافی بڑھادیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو یہ ٹی ٹی پی کا مسئلہ چل رہا تھا اور جو حملوں میں تیزی آئی تھی اور دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستانی جوان بڑی تعداد میں اپنی جانیں کھو رہے تھے، شہید ہو رہے تھے تو اس لیے ریاست کو کہیں نہ کہیں فیصلہ کرنا پڑا کہ اب بہت ہو گیا، اتنا زیادہ جانی نقصان ہم برداشت نہیں کر سکتے، اب کچھ مقابلہ ہونا ضروری ہے۔

ہارون رشید نے کہا کہ پاکستان نے افغان طالبان کو 4 سال ’ہنی مون پیریڈ‘ دیا، اونچ نیچ چلتی رہی لیکن ایک نرم قسم کا ورکنگ ریلیشن تھا اور دورے بھی ہو رہے تھے، آنا جانا بھی تھا لیکن یہ جو ابھی اضافہ ہوا ہے اور سینیئر ملٹری افسران شہید ہو رہے ہیں تو وہ پاکستانی ریاست کے لیے قابل قبول نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سمجھنا کہ طالبان اور ٹی ٹی پی 2 مختلف گروپس ہیں یہ بھی ایک بڑی خام خیالی تھی۔

مزید پڑھیے: امید ہے کہ افغانستان کی قیادت بھارت کی چال میں نہیں آئے گی، احسن اقبال

ہارون رشید نے کہا کہ تنظیمی لحاظ سے یقیناً 2 الگ گروہ ہیں لیکن سب سے اہم نکتہ جس پر یہ دونوں متفق ہیں وہ ان کے نظریات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی تو ملا محمد عمر کو بھی اپنا لیڈر مانتی تھی اور ان کی بیعت کی ہوئی تھی اور امریکا کے خلاف بھی پاکستانی طالبان وہاں جا کر لڑتے رہے ہیں تو یہ رشتہ اب بھی قائم ہے اور افغان طالبان کسی قیمت پر یہ تعلق ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

ہارون رشید نے کہا کہ اگر وہ خواتین کی تعلیم کے معاملے پر پوری دنیا کے سامنے ڈٹ سکتے ہیں تو پاکستان کے دباؤ کے سامنے بھی ڈٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ آگے چل کر پتا چلے گا کہ یہ ایک بڑی حماقت کر رہے ہیں یا ایک کیلکولیٹڈ رسک لے رہے ہیں لیکن بہرحال یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ نظریاتی طور پر ان کو کس طرح الگ کیا جائے، جب تک نظریاتی طور پر دوری پیدا نہیں ہوگی، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا اور اس محاذ پر پاکستان نے اتنا کام نہیں کیا کہ ان کو فکری طور پر کیسے الگ یا کمزور کیا جائے۔

مزید پڑھیں: افغانستان نے پاکستان سے تنازع بطور پراکسی بھارت کے اشارے پر شروع کیا، خواجہ آصف

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بات مانی جائے تو وہ وہاں موجود ہیں، وہیں سے آپریٹ کر رہے ہیں، پلاننگ بھی وہیں سے ہو رہی ہے اور خود افغان حکام نے بھی مانا تھا کہ کچھ لوگوں کو بارڈر سے دور علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے یہ دراصل یہ تسلیم کرنا تھا کہ ان کا وجود وہاں موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب جغرافیائی طور پر ان کو کہیں اور لے جانا مقصد حاصل نہیں کرتا اور ٹی ٹی پی اس سپورٹ کے بغیر سروائیو نہیں کر سکتی، خاص طور پر جس طرح قبائلی اضلاع میں ان کے خلاف آپریشن ہوئے، اور جس طرح وہ کمزور کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: پیرول پر رہا کریں، افغانستان کا مسئلہ حل کر دوں گا، عمران خان کی پیشکش

ہارون رشید نے کہا کہ اب دوبارہ اٹھنا اور جان پکڑنا یہی ظاہر کرتا ہے کہ سنہ 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ٹی ٹی پی کے حملے بڑھے ہیں اور ان کی مالی و دیگر سپورٹ میں اضافہ ہوا ہے اور وہ دوبارہ بحال ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغان طالبان افغانستان پاک افغان کشیدگی ٹی ٹی پی سینیئر صحافی ہارون رشید.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان طالبان افغانستان پاک افغان کشیدگی ٹی ٹی پی سینیئر صحافی ہارون رشید ہارون رشید نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کہ پاکستان رہے ہیں کے خلاف کا کہنا ہے اور یہ بھی تھا کہ

پڑھیں:

بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا

گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔

انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا