data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251018-03-5
حبیب الرحمن
پاکستان اور افغان کشیدگی میں ابھی تک ٹھیراؤ آتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ہر آنے والا دن کشیدگی میں اضافہ کرتا جا رہا۔ ایک طرف افغان سرحدوں کی جانب سے ہر روز سرحدی خلاف ورزیاں جاری ہیں تو دوسری جانب پاکستان کی جوابی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ معاملہ اس لحاظ سے افسوسناک ہے دونوں جانب مارے اور شہید ہونے والے کلمہ گو ہیں اور دونوں اپنی ہلاکتوں کو شہادت اور دوسرے کی شہادتوں کو ہلاکت قرار دے رہے ہیں۔ 15 اکتوبر 2025 کو خبر ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق پاکستان نے افغانستان کی جانب سے ہونے والی کارروائی کے جواب میں ایک بڑا جوابی حملہ کیا۔ صوبہ قندھار اور کابل میں خالصتاً افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کے کئی بٹالین ہیڈ کوارٹر تباہ کردیے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے قندھار میں افغان طالبان بٹالین ہیڈ کوارٹرنمبر 4، 8 بٹالین اور بارڈر بریگیڈ نمبر 5 کے اہداف کو نشانہ بنایا، یہ تمام اہداف باریک بینی سے منتخب کیے گئے جو شہری آبادی سے الگ تھلگ تھے اور کامیابی سے تباہ کیے گئے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق کابل میں فتنہ الہندوستان کے مرکز اور لیڈرشپ کو نشانہ بنایا گیا۔ پاک فوج نے چمن کے علاقے اسپن بولدک اور ژوب میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے حملوں کو ناکام بناتے ہوئے متعدد افغان طالبان کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان طالبان کا اسپن بولدک میں بہیمانہ حملہ ناکام بنا دیا گیا اور پاکستانی افواج نے موثر جواب کارروائی میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
اس جوابی کارروائی کے نتیجے میں 15 تا 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ علاوہ ازیں یہ صورتحال ابھی بھی برقرار ہے اور فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے اسٹرٹیجک پوائنٹس پر اضافی تعیناتیوں کی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے کہا کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے پاک افغان دوستی گیٹ کو اپنی طرف سے اڑا دیا، گیٹ کو تباہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ افغان طالبان تجارت اور مقامی آمددو رفت کے حامی نہیں ہیں۔ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج نے خیبر پختون خوا کے کرم سیکٹر میں بھی پاکستانی بارڈرز پر حملوں کی کوشش کی، جن کو بھی موثر انداز میں پسپا کر دیا گیا۔ ترجمان پاک فوج نے کہا جوابی کارروائی میں افغان مراکز کو بھاری نقصان پہنچا ہے، 8 پوسٹس بشمول 6 ٹینک تباہ ہوئے اور اندازے کے مطابق 25 تا 30 افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے جنگجو ہلاک ہوئے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ کامیابیاں زیادہ کس کی جھولی میں گر رہی ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کیا یہ سلسلہ کہیں جا کر رُکتا بھی نظر آرہا ہے یا خدا نہ خواستہ طول پکڑتا جائے گا۔ افغانستان پہلے ہی ایک تباہ حال ملک ہے اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک تباہ حال ملک کو اس بات کی اب کیا پروا ہو سکتی ہے کہ وہ مزید تباہ و برباد کر دیا جائے لیکن پاکستان کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اگر جنگ طوالت اختیار کر گئی تو یہ بات پاکستان کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں ہوگی۔ افغانستان ایک طویل عرصے سے جنگ لڑتا چلا آرہا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو موجودہ نسل وہ نسل ہے جس نے اپنے ملک میں کبھی امن دیکھا ہی نہیں اس لیے ان کے لیے یہ بات شاید ہی کوئی اہمیت رکھتی ہو کہ وہ اگر آج ہیں تو کل نہیں ہونے سے کیا فرق پڑے گا۔
روس کی مداخلت سے کہیں پہلے بھی وہ آپس میں ہی دست و گریبان رہے ہیں اور ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے ہیں۔ روس کے ساتھ بھی وہ جنگ کر چکے ہیں اور امریکا کی مداخلت پر بھی وہ چین سے نہیں بیٹھے جس کی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان افغانستان کے ایک وسیع علاقے پر قابض بھی ہو جائے تو بھی پاکستان اس امن کو قائم نہیں کر سکتا جس کو وہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ پیچھے ہٹنے پر بھی وہ اپنے آپ کو منظم کر کے پاکستان پر اپنے حملوں میں شدت لا سکتے ہیں۔ جس مصیبت میں روس اور امریکا پھنسے تھے کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان اسی عذاب میں پھنس کر ایک طویل عرصے کے لیے حالت جنگ میں گرفتا ہو جائے۔
ایک جانب پاکستان کی سرحد وں پر نہایت کشیدگی ہے تو دوسری جانب پاکستان کو یہ بات کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ تمام افغان مہاجرین جن کو اپنے ملک کے چپے چپے پر آزادانہ رہنے کی اجازت دی تھی وہ اب بھی مکمل طور پر افغانستان ہی سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اس بات کا اظہار پاکستان میں موجود ان کے کئی رہنماؤں کی جانب سے کیا بھی جا رہا ہے۔ یہی نہیں خود پاکستان کی کئی مذہبی پارٹیاں اور ان کے رہنماؤں کے دل بھی افغانستان کے ساتھ دھڑتے ہیں۔ اس لیے اس پر نظر رکھنے، ایسے لوگوں کو تباہ و برباد کرنے اور انہیں دیس نکالا دینے کی سرحدی جوابی کارروائیوں سے بھی زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں اور مسلم ممالک موجود ہیں۔ یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان ہیں وہ ان ان ممالک کے ہیں جن میں رہتے ہیں لہٰذا یہ سوچنا کہ وہ یک جہتی کا مظاہرہ کرسکیں گے ہماری بہت بڑی بھول ہوگی۔ حال ہی میں ہندوستان پاکستان کی جنگ کے موقع پر ہندوستان کے سارے مسلم علما نے ہندوستان کے ساتھ ہی کھڑے ہونے اعلان کیا تھا۔ سچ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے جو کہا تھا وہ درست ہی تھا کہ:
اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور
ساقی نے بنا کی روشِ لطف و ستم اور
مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
اللہ پاکستان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغان طالبان اور فتنہ الخوارج جوابی کارروائی پاکستان کی کی جانب سے کے مطابق ہیں اور پاک فوج یہ بات بھی وہ
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز