افغان طالبان نے بھارت کی شہ پر حملہ کیا، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے بھارت کی شہ پر پاکستان پر حملہ کیا، جس کے بعد ہمیں مجبوراً بھرپور جوابی کارروائی کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ جائز شرائط پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی طویل مشترکہ سرحد ہے، اور پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو دہائیوں سے پناہ دے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ بھائی چارے کا رشتہ قائم رکھا، مگر بدقسمتی سے افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری پولیس، افواج اور شہری دہشتگردوں کا نشانہ بن رہے ہیں، جبکہ 2018 تک دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا تھا، لیکن اس کے بعد کی حکومت نے ان دہشتگردوں کو واپس لا کر بسایا، جس کے تباہ کن نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ دنوں فتنہ الخوارج نے پاکستان کی افواج پر حملہ کیا، جس سے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم، وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ حکام نے متعدد بار کابل کے دورے کیے اور افغان قیادت سے کہا کہ ہم خطے میں امن اور ترقی چاہتے ہیں، لیکن تمام کوششوں کے باوجود افغانستان نے امن کو ترجیح دینے کے بجائے جارحیت کا راستہ اپنایا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ جب پاکستان پر حملہ ہوا، تو اس وقت افغانستان کے وزیر خارجہ بھارت کے دارالحکومت دہلی میں موجود تھے، اور یہ حملہ بھارت کے اشارے پر کیا گیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی کی، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب گیند افغانستان کے کورٹ میں ہے، افغانستان کی درخواست پر 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر عمل جاری ہے، جبکہ دوست ممالک بالخصوص قطر اس کشیدگی کو کم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ سیز فائر ٹھوس شرائط پر لمبے عرصے کے لیے ممکن ہے، لیکن اگر یہ صرف مہلت لینے کی چال ہوئی تو پاکستان دوبارہ سخت ردعمل دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ جائز اور اصولی بنیادوں پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کچھ لوگ غزہ کے معاملے پر سیاست کرنا چاہتے تھے، لیکن ہم نے اپنا فرض ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں معصوم بچوں کا خون بہایا گیا، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، اور ایسے وقت میں تنقید کرنے والے خاموش تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جنگ بند کرانے میں کردار ادا کرے تو اسے سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ شرم الشیخ میں معاہدے کے بعد غزہ میں فلسطینی عوام نے خوشی منائی، اللہ کا شکر ادا کیا، اور پاکستان نے بھی اپنی سطح پر جو کردار ادا کیا، وہ فرض سمجھ کر کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی کھڑا رہے گا، اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔
آخر میں انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کی تکمیل پر اپنی معاشی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امید ہے یہ پاکستان کا آخری آئی ایم ایف پروگرام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم قرضوں سے نجات حاصل کریں، اور ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں، تاکہ پاکستان کی آواز عالمی سطح پر مزید مؤثر بن سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے کہ پاکستان ادا کیا پر حملہ کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین