کراچی کے ماحولیاتی و شہری ڈھانچے میں انقلابی تبدیلی لائیں گے‘ ناصر حسین شاہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ کے ہمراہ گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 کی دوسری پروجیکٹ اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔اجلاس میں منصوبے کی پیش رفت، پچھلی سفارشات اور آئندہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر بلدیات نے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی کے شہری، ماحولیاتی اور اقتصادی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلی لائے گا۔ چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کہا کہ شہر میں متعدد ایجنسیاں کام کر رہی ہیں، اس لیے مشترکہ منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔اجلاس میں بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی جانب سے شہری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ، ماحولیات، واٹر مینجمنٹ اور ہاؤسنگ کے پہلوؤں پر بریفنگ بھی دی گئی۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ ڈاکٹر وسیم شمشاد نے کہا کہ وفاقی و صوبائی اداروں کے اشتراک سے کراچی کو ایک جدید اور پائیدار میگا سٹی بنایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک