اسلام آباد: پاکستان کے لیے کل 1.2 ارب ڈالر کل منظور ہونے کا امکان ہے، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس کل ہوگا۔آئی ایم ایف نے ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ کا 8 سے 14 دسمبرتک کا شیڈول جاری ہے، پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس اسٹاف لیول معاہدہ کا جائزہ لے گا۔آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے لیے ایگزیکٹو بورڈ 1.

2 ارب ڈالر کی منظوری دے سکتا ہے، موجودہ قرض پروگرام کی 1 ارب ڈالر کی قسط جاری کر سکتا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق پاکستان کا آر ایس ایف فنڈ کی 20 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط جاری کر سکتا ہے، پاکستان کو ای ایف ایف موجودہ قرض پروگرام کی تیسری قسط ملےگی۔

واضح رہے کہ پاکستان نے37 ماہ کا موجودہ قرض پروگرام ستمبر 2024 میں حاصل کیا تھا، ای ایف ایف پروگرام کی ایک ارب ڈالرکی پہلی قسط ستمبر 2024 میں ملی تھی۔ای ایف ایف قرض پروگرام کےتحت ایک ارب ڈالرکی دوسری قسط مئی 2025 میں ملی تھی، پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے پروگرام آر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط ملے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ قرض پروگرام ارب ڈالر ڈالر کی

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل