مشرقِ وسطیٰ کی کمپنی کا پاکستان میں 5 ارب ڈالر کی تاریخی سرمایہ کاری کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ کی معروف انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی نے 5 ارب ڈالر کی تاریخی سرمایہ کاری کے ساتھ فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری مکمل کر لی ہے۔
یہ معاہدہ ایس آئی ایف سی کے تعاون سے ممکن ہوا، جو پاکستان کے مالیاتی شعبے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی، جس کی مارکیٹ ویلیو 240 ارب ڈالر سے زائد ہے اور جو دنیا بھر میں 1300 سے زیادہ ذیلی اداروں کی نگرانی کرتی ہے، نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کے بینکاری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے گی۔
کمپنی کا مرکزی ہدف فرسٹ ویمن بینک کو مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ڈیجیٹل کمرشل بینک میں تبدیل کرنا ہے تاکہ پاکستان میں جدید بینکنگ سہولتوں تک عوام کی رسائی آسان بنائی جا سکے۔
ترجمان آئی ایچ سی کے مطابق کمپنی پاکستان میں ڈیجیٹلائزیشن، جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ اور عالمی معیار کے مالیاتی نظام کے فروغ پر خصوصی توجہ دے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی صلاحیت اور حکومتی اصلاحاتی اقدامات غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کا مظہر ہیں۔
واضح رہے کہ کمپنی کا ذیلی ادارہ انٹرنیشنل ریسورسز ہولڈنگ پہلے ہی پاکستان میں کان کنی، توانائی اور قدرتی وسائل کے منصوبوں پر سرگرم عمل ہے۔ اب یہ سرمایہ کاری مالیاتی شعبے کے ساتھ ساتھ دیگر کلیدی شعبوں میں بھی مزید وسعت پانے جا رہی ہے۔
پاکستان میں نجکاری کے اس تاریخی سنگ میل کو عالمی سطح پر اعتماد کی بحالی اور معاشی استحکام کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرے گی بلکہ بینکنگ سیکٹر میں ٹیکنالوجی پر مبنی جدت اور شفافیت کو فروغ دے گی۔
آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے مثبت جائزے اور عالمی ریٹنگ میں بہتری نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے جب کہ ایس آئی ایف سی کی فعال حکمت عملی اور اصلاحاتی اقدامات نے عالمی کمپنیوں کا اعتماد جیتنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری پاکستان میں کے لیے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔