ایس ایچ او عزیز آباد گٹکا ڈیلرعمیر ببلو کا سرپرست بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
بھنگوریہ گوٹھ میں جنید اور ببلو کے گٹکے نے دھوم مچا دی،پولیس نوٹ بٹوڑنے میں مصروف
بلو کے کارندوں کی چوری چھپے کرسچن پاڑے کی گلیوں میں دھڑلے سے گٹکے کی فروخت جاری
ڈسٹرکٹ سینٹرل تھانہ عزیز آباد پولیس عمیر عرف ببلو کا کام بند کرانے میں ناکام نظر آتی ہے۔تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل تھانہ عزیز آباد حساس تھانوں میں شمار ہوتا ہے اس گنجان آباد علاقے میں عمیر عرف ببلو نے گٹکے کی فروخت کی کمان سنبھال رکھی ہے ببلو کی دکانوں پر صبح 8 بجے سے رات 2 بجے تک بلا تعطل گٹکے کی فروخت جاری متعلقہ پولیس میں بھاری نذرانے کے عوض عمیر عرف ببلو کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ماضی میں بھی ببلو کے خلاف تھانہ عزیز اباد میں متعدد مقدمات درج ہوئے جن میں وہ ضمانت پر ہے ببلو کا کہنا ہے میں اوپر تک سب کو پیسے کھلاتا ہوں میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ایس ایچ او وقار قیسر کا شمار اچھی شہرت کے حامل افسران میں ہوتا یے اپنے علاقے میں گٹکا مافیا کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے ان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بھنگوریہ گوٹھ میں جنید اور ببلو کے گٹکے نے دھوم مچا رکھی ہے آئے روز قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کارروائی کے بعد بھی چوری چھپے علاقے کی گلیوں میں گٹکے کی جاری رہتی ہے اس تمام صورتحال کے باعث علاقہ مکینوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے پولیس حکام سے مطالبہ کرتے ہیں گٹکا مافیا کے کرداروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: گٹکے کی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔